
میں پچھلے چودہ سال سے ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کررہا ہوں، پچھلے بیس پچیس دن سے مین مؤذن کے ساتھ متصل کھڑا ہوکر نماز پڑھ رہاتھا ، پچھلے دنوں امام صاحب نے مجھے اس جگہ سے ہٹاکر مجھے دور کھڑے ہونے کو کہا ،اور وجہ یہ بتلایا کہ میں داڑھی منڈا ہو ں۔
میرا سوال یہ ہے کہ امام صاحب کےلیے مجھے اس جگہ داڑھی منڈا ہونے کی وجہ سے ہٹانا درست ہے ؟کیا ان کا یہ کہنا درست ہے کہ موذن سے متصل دو باشرع آدمی کھڑے ہوں گے ؟
واضح رہے کہ مسجد میں پہلی صف کے اندر امام کےقریب انہی افراد کو کھڑا ہونا چاہیے جو دینی اعتبار سے سمجھدار، سنجیدہ اور نماز کے بنیادی مسائل سے بخوبی واقف ہوں ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صف بندی کے وقت ہمارے کندھوں کو برابر فرماتے اور ارشاد فرماتے: "سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور آپس میں اختلاف سے بچو، ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا، میرے قریب پہلی صف میں وہ لوگ کھڑے ہوں جو عقل و فہم اور دانائی والے ہوں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے۔
اور داڑھی رکھنا واجب ہے ، تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور داڑھی کو منڈ وانا حرام ہے، جو لوگ اس گناہ میں مبتلاء ہیں ان کو چاہیے کہ اس سے اجتناب کریں اور اللہ تعالی سے تو بہ واستغفار کریں ، اور جماعت سے نماز پڑھتے وقت ایسے لوگوں کو چاہیے کہ علماء و صلحاء سے بڑھ کر پہلی صف میں کھڑے نہ ہو جائیں بلکہ پہلی صف میں ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں جو علاء و صلحاء ہوں جیسا کہ علامہ ظفر احمد عثمانی نے اس حدیث کی تشریح میں (ليلني منكم أولو الأحلام والنهى) علامہ شعرانی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ صف اول میں وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جن کا ظاہر و باطن اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق ہو، ورنہ ان کیلئے آخری صفوں میں کھڑا ہونا بہتر ہے،تاہم اگر کوئی داڑھی منڈھانے والا شخص پہلی صف میں کھڑا ہو ،خواہ امام کے قریب یا مؤذن کے پہلو میں پہلے سے آکرکھڑا ہو جائے تو محض داڑھی منڈاہونے کی وجہ سے اسے پہلی صف سے ہٹانا یا پیچھے کرنا مناسب نہیں ہے۔
صحيح مسلم میں ہے:
"عن أبي مسعود قال: « كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول: استووا، ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم. ليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم». قال أبو مسعود: فأنتم اليوم أشد اختلافا".
(كتاب الصلاة،باب تسوية الصفوف وإقامتها،ج:2،ص: 30،ط:دار الطباعة العامرة)
شرح النووي على مسلم میں ہے:
"تقديم الأفضل فالأفضل إلى الإمام لأنه أولى بالإكرام ولأنه ربما احتاج الإمام إلى استخلاف فيكون هو أولى ولأنه يتفطن لتنبيه الإمام على السهو لما لا يتفطن له غيره وليضبطوا صفة الصلاة ويحفظوها وينقلوها ويعلموها الناس وليقتدي بأفعالهم من وراءهم
(كتاب الصلاة،باب تسوية الصفوف وإقامتها وفضل الأول فالأول منها،ج:4،ص: 155،ط:دار إحياء التراث العربي)
الجامع لاحكام الصلاة میں ہے :
"ليلني منكم أولو الأحلام والنهي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم" (3) فهذا لا يفيد تأخير الصغار عن أماكنهم، وإنما هو حث لأولى الأحلام والنهي -وهم أصحاب العقول- على التقدم ليكونوا وراء الإمام، لتنبيهه على سهو إن طرأ، أو استخلاف أحدهم إن احتاج إلى ذلك. ولو كان المراد النهي عن تقدم الصبيان لقال: لا يلني إلا أولو الأحلام والنهي (4)".
(الحكم الثامن في دخول الجنب والحائض المسجد ،ص:60،ط:الكتاب العالمي للنشر،بيروت،لبنان)
اعلاء السنن میں ہے :
قال العلامة الشعرانى فى العهود المحمدية، أخذ علينا العهد إذا صفت سرائرنا من جميع ما يسخط الله عز وجل بحيث لم بيق في سرائرنا وظواهرنا الا ما يرضى ربنا أن نواظب على الصلوة في الصف الأول عملا بقولهﷺ ليلنى منكم اولو الاحلام و النهي اى العقل ولا يكون العبد عاقلا الا اذا كان بهذا الوصف الذي ذكرناه فإن من كان في ظاهره أو باط صفة يكرهها الله تعالى فليس بعاقل كامل ولا يتقدم للصف الأول بين يدى الله في المواكب الإلهية إلا الأنبياء والملائكة ومن كان على اخلاقهم وأما من تخلف عن اخلاقهم فيقف في اخريات الناس.
(كتاب الصلوة، باب كراهة التأخر عن الصف المقدم بلا وجه شرعی ، ج 4، ص: 366،365، ط: ادارة القرآن والعلوم الاسلامية)
در مختار میں ہے:
"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم فتح".
(كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2،ص: 418،ط:دار الفكر)
فقط وللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100486
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن