
1. ہماری فیکٹری میں نماز کی جگہ اس طرح بنی ہوئی ہے کہ امام اور دوصفیں اندر پہلی منزل پر اور باقی صفیں باہر روڈ پر ہیں، امام کی تکبیر سننے کے لیے واحد ذریعہ اسپیکر ہوتا ہے، اب اگر دوران نمازبجلی چلی جائے یا کسی وجہ سے اسپیکر بند ہوجائے اور کوئی شخص تکبیر بھی نہ کہے تو باہر کی صف والے نماز کیسے پڑھیں گے ؟ نماز توڑ دیں یا انفرادی پڑھنا شروع کر دیں؟
2. دوسری صورت یہ کہ اگر اسپیکر کی آواز کچھ دیر کے بعد بحال ہو جائے اور بحال ہونے تک امام سجدہ میں چلا جاتا ہے یا دوسری رکعت کے لیے اٹھ جائے تو پھر کیا باہر والے نمازی رکوع وغیرہ خود کرکے امام کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں یا نماز توڑنی پڑے گی؟
3. اسی طرح اگر کوئی نمازی اکیلا باہر والی صف میں شامل ہو یہ سمجھ کر کہ امام قیام میں ہیں جب کہ امام سجدہ یا کسی اور رکن میں ہو تو اب جب اس کو اندازہ ہوگا کہ وہ امام کے علاوہ کسی اور رکن میں ہے تو کیا کرے؟ نماز اپنے حساب سے اندازہ سے تکبیرات کے ساتھ جاری رکھے جب تک کہ معلوم نہ ہو جائے یا نماز توڑ کر معلوم کرے؟
بظاہر آپ کے سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی منزل پر موجود نماز پڑھنے کی جگہ مسجدِ شرعی نہیں ہے، بلکہ مصلیٰ ہے، یعنی عارضی نماز کی جگہ، پھر یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر امام اور کچھ نمازی پہلی منزل پر موجود مصلی میں نماز پڑھ رہے ہوں اور باقی لوگ باہر زمینی منزل اسی امام کی اقتداء میں نماز پڑھیں تو یہ اقتداء درست نہیں ہو گی؛ اس لیے کہ مقتدیوں کی نماز کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مقتدی اور امام کا مکان متحد ہو اور صورتِ مسئولہ میں نماز پڑھنے کی جو صورت ذکر کی گئی ہے اس صورت میں نماز ہی درست نہیں۔نیز اس طرح کی صف بندی سے نماز میں خرابی پیدا ہونا کوئی بعید نہیں، جیسا کہ سوال نمبر 2 اور 3 میں موجود ہے۔
جب مذکورہ طرز پر باجماعت نماز پڑھنا ہی درست نہیں ہے تو بقیہ سوالوں کے جوابات کی ضرورت نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما.
(قوله: واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده، كما في الإمداد، وسيأتي".
(كتاب الصلاة ، باب الإمامة ، 1 / 549-550، ط : سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101455
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن