
میری جس لڑکی سے شادی ہوئی،وہ طلاق یافتہ تھی،اس کا تیسرا حیض پانچویں دن پوراہوا،تو میں نے سوچا کہ حیض ختم ہوگیا اور وہ پاک ہوگئی،اس لیے اگلے دن(یعنی چھٹے دن) میں اس کے ساتھ نکاح کردیا،اس سے اگلے دن یعنی ساتویں دن اسے خون محسوس ہواکہ شاید دوبارہ خون آیاہے،لیکن اس نے اس پر توجہ نہیں دی اور ہمارا نکاح ہوگیا،ایک سال کے بعد رخصتی بھی ہوگئی۔
اب وہ بہت پریشان ہے،کہ کیا شرعی لحاظ سے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑاہے؟
وضاحت:اس کی عمومی ماہواری چھ دن ہوتی ہے اور کبھی کبھار پانچ دن بھی ہوجاتی ہے،اس مرتبہ پانچ آئی،پھر چھٹے دن عورت نے غسل کیااور کپڑے تبدیل کیےاور اسی دن نکاح ہوا،اس کے بعد ساتویں دن خون کا دھبہ کپڑوں پر نظر آیا،پھر اگلے مہینے تک دوبارہ کوئی دھبہ وغیرہ نظر نہیں آیا تھا۔
واضح رہے کہ اگر کسی عورت کی ماہواری کی سابقہ عادت متعین ہو یعنی اسے ہرماہ مثلاً: سات دن حیض آتا ہو، پھر کسی مہینے گزشتہ عادت سے زیادہ حیض کا سلسلہ جاری رہے، یہاں تک کہ دس دنوں سے بھی زیادہ کی مدت ہوجائے تو ایامِ عادت (مثلاً: سات ایام) کا خون توحیض سمجھا جائے گا، اور اس کے بعد کے دنوں کا خون استحاضہ سمجھاجائے گااور اگرخون سابقہ عادت سے بڑھ جائے، لیکن دس دنوں کے اندراندر بند ہوجائے یا دھبے نظر آنا دس دنوں کے اندر بند ہوجائیں تو اس صورت میں اسے عادت کی تبدیلی قرار دیاجائے گا۔اور سابقہ عادت سے دس دنوں کے اندر اندر جتنے دن خون آیا یا دھبے لگے یہ تمام ایام حیض شمار ہوں گے۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ خاتون کو پہلے شوہر کی عدت گزارتے ہوۓتیسرے حیض کے پانچ دن مکمل ہوۓ،اس کے بعد اس نے غسل کرکے چھٹے دن نکاح کیااور پھر ساتویں دن اس کو کپڑوں پر خون کے سرخ دھبے نظر آنے لگے،جوکہ پھر بند ہوۓاور اگلی ماہواری اگلے مہینے آئی،لہذا مذکورہ خاتون کی اس مہینے میں ماہواری کی عادت تبدیل ہوئی اور سات دن اس کی ماہواری شمار ہوگی،لہذا مذکورہ تفصیل کی رو سے سائل کا اس سے نکاح پہلے شوہر کی عدت کے اندر پایاگیا،لہذا وہ نکاح شرعاً معتبر نہیں تھا، جتنا عرصہ ساتھ رہےہیں اس پر توبہ واستغفار بھی کریں۔
اب اگر مذکورہ خاتون سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو،تو دوبارہ عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ آپس میں دوبارہ شرعی طریقے پر نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، اور اگر وہ سائل کے علاوہ کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہو،تو سائل کے ساتھ آخری مرتبہ جو ہمستری ہوئی ہو اس کے بعد سے مذکورہ خاتون عدت(تین مکمل ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو بچہ کی پیدائش تک)گزاری گی اور پھر کسی اور شخص کے ساتھ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،البتہ اگر مذکورہ خاتون سائل کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہو،تو دوبارہ عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ آپس میں دوبارہ شرعی طریقے پر نکاح کرلیں۔
الدرالمختار میں ہے:
"(وما تراه) من لون ككدرة وترابية (في مدته) المعتادة (سوى بياض خالص) قيل هو شئ يشبه الخيط الابيض (ولو) المرئي (طهرا متخللا) بين الدمين(فيها حيض) لان العبرة لاوله وآخره وعليه المتون فليحفظ."
(کتاب الطھارۃ،باب الحیض،ص:44،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول. وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول. اهـ. وخص الشارح المتاركة بالزوج كما فعل الزيلعي لأن ظاهر كلامهم أنها لا تكون من المرأة أصلا مع أن فسخ هذا النكاح يصح من كل منهما بمحضر الآخر اتفاقا. والفرق بين المتاركة والفسخ بعيد كذا في البحر."
(کتاب النکاح،باب المھر،مطلب في النكاح الفاسد،ج:3/،ص:133،ط:سعید)
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله وتجب عدة أخرى بوطء المعتدة بشبهة وتداخلتا والمرئي منهما وتتم الثانية إن تمت الأولى) ؛ لأن المقصود التعرف عن فراغ الرحم وقد حصل بالواحدة فيتداخلان ومعنى العبادة فيها تابع، ألا ترى أنها تنقضي بدون علمها ومن غير تركها الكف أطلق الوطء بشبهة فشمل المطلق وغيره حتى لو حاضت المطلقة حيضة ثم تزوجت بآخر ووطئها وفرق بينهما ثم حاضت حيضتين بعد التفريق فقد انقضت عدة الأول وحل للثاني أن يتزوجها وليس لغيره أن يتزوجها حتى تحيض ثلاثا من وقت التفريق."
(کتاب الطلاق،باب العدۃ۔ج:4،ص: 155،ط:دارالکتاب الاسلامی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100713
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن