بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائشی طور پر جُڑی ہوئی (Conjoined twins) بہنوں کےنکاح کا شرعی حکم


سوال

 مسئلہ درج ذیل ہے: دو لڑکیاں پیدائشی طور پر جسمانی طور پر آپس میں جُڑی ہوئی ہیں۔ ان کے ذہن، شعور، دل اور جذبات الگ الگ ہیں، لیکن میڈیکل رپورٹس کے مطابق انہیں علیحدہ کرنا ممکن نہیں، اور اگر علیحدہ کیا جائے تو دونوں کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

1. اگر ان کے تولیدی اعضا مشترک ہوں، یا ایک سے ازدواجی تعلق دوسرے پر جسمانی یا جذباتی اثر ڈالے، تو: کیا ایک ہی مرد ان دونوں لڑکیوں سے نکاح کر سکتا ہے؟ اگر یہ ممکن نہ ہو، تو کیا کسی ایک سے نکاح جائز ہے؟ اگر ازدواجی تعلق کے نتیجے میں دوسری بہن پر اثر ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

2. اگر نکاح ممکن نہ ہو، اور ان کے اندر فطری جنسی خواہشات موجود ہوں، تو: کیا وہ گناہ کی صورت میں شرعی طور پر جواب دہ ہوں گی، جبکہ نکاح ان کے لیے ممکن نہ ہو؟ اگر وہ ذہنی دباؤ یا جذباتی پریشانی کا شکار ہوں تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی حالت میں کوئی خصوصی رعایت یا استثناء ممکن ہے؟

3. اگر نبی کریم ﷺ کے دور یا بعد میں کسی ایسے کیس کی مثال فقہی کتب میں موجود ہو تو براہِ کرم اس کا حوالہ بھی دیا جائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس نازک مسئلے کو علمی، فقہی اور ہمدردانہ انداز میں دیکھ کر رہنمائی فرمائیں تاکہ متاثرہ خاندان شرعی اصولوں کے مطابق عمل کر سکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور امت کی رہنمائی میں آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ 

جواب

شریعت کے بنیادی اصول کے تحت نکاح فی نفسہ ہر انسان کا حق اور جائز بلکہ پسندیدہ عمل ہے، لیکن جب اس کے عملی تقاضے پورے نہ ہو سکیں مثلا : ستر، نامحرم کو دیکھنا تو اس کی اجازت باقی نہیں رہتی۔ ایسے افراد جو قدرتی طور پر اس آزمائش میں مبتلا ہوں، اگر نکاح نہ کر سکیں تو ان کے لیے صبر، عبادت اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ زندگی گزارنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔ یہ حالت دراصل ایک ابتلاء ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر Conjoined Twins (جسمانی طور پر جُڑی ہوئی جڑواں بہنیں) اس طرح جُڑی ہوئی ہوں کہ ان کے درمیان خلوت، پردہ اور علیحدہ زندگی گزارنے کا کوئی امکان نہ ہو،مثلاً ان کے اعضاءِ تولید مشترک ہوں یا ازدواجی تعلقات کے دوران ایک پر دوسرے کا جسمانی یا جذباتی اثر لازم آتا ہو،تو ایسی صورت میں نکاح فی نفسہ تو جائز ہے، لیکن ازدواجی تعلق قائم کرتے وقت ستر کی بے پردگی لازم آنے کے سبب اس سے اجتناب کیا جائے گا۔ لہٰذا ایسی بہنوں کو صبر کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ البتہ دونوں بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا ناجائز ہے۔

کنزالعمال میں ہے:

عن سعيد بن جبير قال: أتي عمر بن الخطاب بامرأة قد ولدت ولدا له خلقتان بدنان وبطنان وأربعة أيد ورأسان وفرجان هذا في النصف الأعلى وأما في الأسفل فله فخذان وساقان ورجلان مثل سائر الناس فطلبت المرأة ميراثها من زوجها وهو أبو ذلك الخلق العجيب فدعا عمر بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فشاورهم فلم يجيبوا فيه بشيء فدعا علي بن أبي طالب فقال علي: إن هذا أمر يكون له نبأ فاحبسها واحبس ولدها واقبض ما لهم وأقم لهم من يخدمهم وأنفق عليهم بالمعروف ففعل عمر ذلك ثم ماتت المرأة وشب الخلق وطلب الميراث فحكم له علي بأن يقام له خادم خصي يخدم فرجيه ويتولى منه ما يتولى الأمهات ما لا يحل لأحد سوى الخادم، ثم إن أحد البدنين طلب النكاح فبعث عمر إلى علي فقال له: يا أبا الحسن ما تجد في ,أمر هذين؟ إن اشتهى أحدهما شهوة خالفه الآخر وإن طلب الآخر حاجة طلب الذي يليه ضدها حتى إنه في ساعتنا هذه طلب أحدهما الجماع فقال علي: الله أكبر إن الله أحلم وأكرم من أن يرى عبدا أخاه وهو يجامع أهله ولكن عللوه ثلاثا فإن الله سيقضي قضاء فيه ما طلب هذا إلا عند الموت فعاش بعدها ثلاثة أيام ومات فجمع عمر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فشاورهم فيه قال بعضهم: اقطعه حتى يبين الحي من الميت وتكفنه وتدفنه، فقال عمر: إن هذا الذي أشرتم لعجب أن نقتل حيا لحال ميت وضج الجسد الحي فقال: الله حسبكم تقتلوني وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقرأ القرآن فبعث إلى علي فقال: يا أبا الحسن أحكم فيما بين هذين الخلقين، فقال علي: الأمر فيه أوضح من ذلك وأسهل وأيسر، الحكم أن تغسلوه وتكفنوه مع ابن أمه يحمله الخادم إذا مشى فيعاون عليه أخاه فإذا كان بعد ثلاث جف فاقطعوه جافا ويكون موضعه حي لا يألم فإني أعلم أن الله لا يبقى الحي بعده أكثر من ثلاث يتأذى برائحة نتنه وجيفته ففعلوا ذلك فعاش الآخر ثلاثة أيام ومات، فقال عمر رضي الله عنه: يا ابن أبي طالب فما زلت كاشف كل شبهة وموضح كل حكم.

"أبو طالب المذكور" ورجاله ثقات إلا أن سعيد بن جبير لم يدرك عمر.

سعید بن جبیرؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا جس نے ایک عجیب الخلقت بچہ جنا تھا۔ اس بچے کے دو دھڑ، دو پیٹ، چار بازو، دو سر اور دو شرمگاہیں تھیں۔ جسم کے اوپر والے حصے میں یہ دونوں بدن الگ الگ تھے، لیکن نیچے کے حصے میں صرف دو رانیں، دو ٹانگیں اور دو پاؤں تھے، جیسے عام انسان کے ہوتے ہیں۔وہ عورت اپنے شوہر (جو اس عجیب بچے کا باپ تھا) کی وفات کے بعد اپنے وراثت کے حصے کا مطالبہ لے کر آئی۔ حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ کے صحابہؓ کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا، مگر کسی نے کوئی رائے نہ دی۔ پھر حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بلایا گیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: “یہ ایسا معاملہ ہے جس کا حال وقت کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ تم اس عورت اور اس کے بچے کو کچھ عرصہ روک لو، ان کا مال سنبھال لو، ان کے لیے خدمت گزار مقرر کرو اور ان پر مناسب خرچ کرو۔”چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایسا ہی کیا۔ کچھ عرصے بعد وہ عورت فوت ہوگئی، اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ جب وہ بالغ ہوا تو اس نے اپنے وراثت کے حصے کا مطالبہ کیا۔حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ اس کے لیے ایک خصی خادم مقرر کیا جائے جو اس کی خدمت کرے اور دونوں شرمگاہوں کے امور انجام دے، کیونکہ یہ کسی اور کے لیے جائز نہیں۔پھر ایک دن ان میں سے ایک دھڑ نے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کو بلا کر کہا:“اے ابوالحسن! تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان دونوں میں سے جب ایک کوئی خواہش کرتا ہے تو دوسرا اس کے برعکس چاہتا ہے۔ ابھی اسی وقت ایک نے جماع کی خواہش ظاہر کی ہے۔”حضرت علیؓ نے فرمایا:“اللہ اکبر! بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور کریم ہے، وہ ایسا نہیں کرے گا کہ ایک بندہ اپنے دوسرے بھائی کو اپنی بیوی کے ساتھ حالتِ جماع میں دیکھے۔ اس کو تین دن تک بہلاؤ، کیونکہ یہ خواہش موت کے قریب آنے پر ظاہر ہوئی ہے، اور اللہ جلد فیصلہ فرما دے گا۔”چنانچہ ایسا ہی ہوا — تین دن بعد وہ بدن مر گیا۔پھر حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کو جمع کیا اور مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے۔ بعض نے کہا:“مردہ حصے کو زندہ سے کاٹ دو تاکہ مردہ اور زندہ میں فرق ظاہر ہو جائے، پھر مردہ حصے کو غسل دے کر کفن دفن کر دو۔”حضرت عمرؓ نے فرمایا:“یہ تو عجیب بات ہے! ہم زندہ کو محض مردہ کی وجہ سے قتل کر دیں؟”اس پر زندہ دھڑ بول اٹھا:“اللہ تمہارے لیے کافی ہے! کیا تم مجھے قتل کرو گے جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور میں قرآن پڑھتا ہوں؟”حضرت عمرؓ نے دوبارہ حضرت علیؓ کو بلایا اور فرمایا:“اے ابوالحسن! ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرماؤ۔”حضرت علیؓ نے فرمایا:“یہ معاملہ تو بہت واضح اور آسان ہے۔ حکم یہ ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ غسل دو اور ایک ساتھ کفناؤ۔ خادم اسے اٹھائے اور چلنے میں زندہ دھڑ کی مدد کرے۔ پھر تین دن بعد جب مردہ حصہ سڑ جائے اور سخت ہو جائے تو اسے کاٹ دو، کیونکہ اس وقت زندہ دھڑ کو تکلیف نہیں ہوگی۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ زندہ دھڑ کو بھی تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رکھے گا، کیونکہ وہ اپنے بھائی کے جسم کی بدبو اور سڑن سے تکلیف اٹھائے گا۔”چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ تین دن بعد زندہ دھڑ بھی مر گیا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا:“اے ابنِ ابی طالب! تم ہمیشہ ہر شبہ کو دور کرنے والے اور ہر معاملے کو واضح کرنے والے ہو۔”

(حدیث رقم: 14509ج:5، ص:833-834، ط:مؤسسة الرسالة)

بخاری میں ہے:

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: إن ناسا من الأنصار، سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاهم، ثم سألوه فأعطاهم، حتى نفد ما عنده، فقال: (ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم، ‌ومن ‌يستعفف ‌يعفه ‌الله، ‌ومن ‌يستغن ‌يغنه ‌الله، ‌ومن ‌يتصبر ‌يصبره ‌الله، ‌وما ‌أعطي ‌أحد ‌عطاء ‌خيرا ‌وأوسع ‌من ‌الصبر)

 

ترجمہ: "جو شخص عفت کی کوشش کرے، اللہ اسے عفت عطا فرماتا ہے۔ جو بے نیازی چاہے، اللہ اسے غنا  عطا فرماتا ہے۔ اور جو صبر کی کوشش کرے، اللہ اسے صبر عطا فرماتا ہے۔ اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع تر کوئی عطیہ نہیں دیا گیا

(باب الاستعفاف  عن المسئلۃ، ج: 2، ص:  534، ط: دار ابن کثیر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101463

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں