بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پشتو میں طلاق کی دھمکی دینا


سوال

میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو رہا تھا فون پر، میں نے پشتو زبان میں اس سے کہا کہ:" تہ مور کلہ  را نلی نو ز و بہ تاتہ طلاق  را کومہ " ان الفاظ کا ترجمہ  یہ ہے:اگر تو ماں کے گھر نہیں گئی میں تجھے طلاق دے دوں گا ،اس کے بعد وہ سسرال یعنی ماں کے گھر گئی ۔یہ الفاظ دو مرتبہ بولے ہیں ۔برا ہ کرم حکم بتا دیں۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل  نے   پشتو میں اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے ہوں کہ :"" تہ مور کلہ  را نلی نو ز و بہ تاتہ طلاق  را کومہ " ترجمہ  :اگر تو ماں کے گھر نہیں گئی میں تجھے طلاق دے دوں گا "اس کے علاوہ کوئی اور الفاظ نہیں کہے ہیں تو  ایسی صورت میں مذکورہ الفاظ  مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے ہیں اور شرعا ًدھمکی کے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے  ،جب تک  شوہر طلاق نہ دے  ،  اس  جملے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی ۔ نکاح بدستور قائم اور برقرار ہے۔ البتہ اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:

"صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38،ط:دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100801

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں