
مجھے الحمد للہ پیشاب کے قطرے آنے کا مستقل مسئلہ نہیں ہے۔ البتہ صورتِ حال یہ ہے کہ جب میں پیشاب کرنے کے بعد کھڑا ہوتا ہوں اور پھر دوبارہ بیٹھ جاتا ہوں، تو نالی میں موجود کچھ بقیہ پیشاب ایک دم خارج ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر میں پیشاب کے بعد کھڑا ہی رہوں اور دوبارہ نہ بیٹھوں تو پھر کوئی قطرے خارج نہیں ہوتے۔ میں بچپن سے یہی طریقہ اختیار کرتا آیا ہوں کہ پیشاب کے بعد کھڑا نہیں ہوتا، لیکن اب کچھ لوگوں سے سن کر ذہن میں وسوسہ آ رہا ہے کہ شاید مجھے کھڑے ہو کر بھی چیک کرنا چاہیے۔ اب میری رہنمائی فرمائیں:
1۔کیا مجھے پیشاب کے بعد کھڑے ہو کر دوبارہ بیٹھ کر بقیہ پیشاب نکالنا چاہیے؟
2۔یا اپنے پرانے طریقے پر ہی رہنا درست ہے؟
3۔کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ محض وسوسہ ہو اور اس پر عمل کرنا ضروری نہ ہو؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ پیشاب کرنے کے بعد کھنکار کر، یا ایک آدھ قدم چل کر، یا اٹھ کر بیٹھ کر، یا کوئی اور ایسا طریقہ اختیار کرے جس سے نالی میں موجود پیشاب کے باقی قطرے نکل جائیں اور سائل کو پوری طرح اطمینان حاصل ہوجائے، اس کے بعد استنجا کرکے نماز پڑھنی چاہیے؛ لیکن اس میں زیادہ غلو اور شدت سے کام نہ لے کیونکہ یہ ذہنی انتشار اور پریشانیوں کا باعث بنتا ہے، اور استنجا کے بعد اس طرف مزید دھیان نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس سے وسوسے کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عوارف المعارف میں لکھا ہے کہ اس کا حال تھن کا سا ہے کہ جب تک ملتے رہیں کچھ نہ کچھ نکلتا رہتا ہے اور اگر یوں ہی چھوڑ دیں تو کچھ بھی نہیں ۔‘‘
(ملفوظات کمالات اشرفیہ، وسوسہ طہارت کا علاج، ص:265ط : ادارہ تالیفات اشرفیہ )
فتاوی شامی میں ہے:
"يجب الاستبراء بمشي أو تنحنح أو نوم على شقه الأيسر، ويختلف بطباع الناس.
(قوله: يجب الاستبراء إلخ) هو طلب البراءة من الخارج بشيء مما ذكره الشارح حتى يستيقن بزوال الأثر. وأما الاستنقاء هو طلب النقاوة: وهو أن يدلك المقعدة بالأحجار أو بالأصابع حالة الاستنجاء بالماء. وأما الاستنجاء: فهو استعمال الأحجار أو الماء، هذا هو الأصح في تفسير هذه الثلاثة كما في الغزنوية. وفيها أن المرأة كالرجل إلا في الاستبراء فإنه لا استبراء عليها، بل كما فرغت تصبر ساعة لطيفة ثم تستنجي، ومثله في الإمداد. وعبر بالوجوب تبعا للدرر وغيرها، وبعضهم عبر بأنه فرض وبعضهم بلفظ ينبغي وعليه فهو مندوب كما صرح به بعض الشافعية، ومحله إذا أمن خروج شيء بعده فيندب ذلك مبالغة في الاستبراء أو المراد الاستبراء بخصوص هذه الأشياء من نحو المشي والتنحنح، أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه. وقال: عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح. اهـ. (قوله: أو تنحنح) لأن العروق ممتدة من الحلق إلى الذكر وبالتنحنح تتحرك وتقذف ما في مجرى البول. اهـ. ضياء. (قوله: ويختلف إلخ) هذا هو الصحيح فمن وقع في قلبه أنه صار طاهرا جاز له أن يستنجي؛ لأن كل أحد أعلم بحاله ضياء."
(کتاب الطھارۃ، باب الأنجاس، فروع فی الإستنجاء، ج:1، ص:344،345، ط: ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101198
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن