
میں کسی کو پسند کرتی ہوں اور وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے،اس نے دو مرتبہ میرے گھر رشتہ بھی بھیجا ہے،پہلی مرتبہ میرے گھر والوں نے ایک سال کا ٹائم دیا تھا،پھر ایک سال بعد دوبارہ رشتہ بھیجا تو میرے گھر والوں نے سب سے پوچھا ،انہوں نے بتایا کے لڑکا اچھا ہے، کام بھی کرتا ہے ،نشہ وغیرہ نہیں کرتا، پانچ وقت کا نمازی ہے ،خاندانی لوگ ہیں ،پھر بات حق مہر پر آئی ، میرے گھر والوں نے 10تولہ کہا،ابھی اس مہنگائی میں ایک تولہ3 لاکھ کا ہے، تو انہوں نے کہا کہ کہ 4 تولہ نقد 3تولہ قرض۔
اب ہم سے بہت سے گناہ ہو چکےہیں، میں نے اللّٰہ سے توبہ بھی کی ہے سب، ہم مزید گناہ کے طرف نہیں جا سکتے،گناہ ہونے کا خدشہ ہےتو آپ سے یہ عرض کرنا تھا اگر ہم کورٹ میں نکاح کرلیں اور اس نکاح کو گھر والوں سے چھپا کر رکھیں تو گناہ نہیں ہوگا؟
میں نے بہت کوشش کی ہے اس کو بھولنے کی ،لیکن میں بھلا نہیں پا رہی ،میرے دماغ میں یہ وسوسہ آتا ہے کہ میں خودکشی کرلوں، خود کشی حرام ہے ،پھر میں پیچھے ہٹتی ہوں ،اب آپ مجھے بتائیں میں کیا کروں؟ میں نے گھر والوں سے بات بھی کی ہے، سب سے کہا ہے چاچو ابا امی، لیکن سب بول رہیں کے ۱۰ تولہ سونا دیں، اب میں کیا کروں؟
میرے گھر والے چاہتے ہیں میں ان کی پسند سے شادی کروں، لیکن مجھے وہ نہیں پسند ،کہتے ہیں اگر میں ان کی پسند سے شادی نہیں کروں گی تو وہ کبھی میری شادی نہیں کروائیں گے،اب جو گناہ ہوگا اسکا گناہ کس پر ہوگا ؟مجھے اب کورٹ سے نکاح چھپ کر کرنے پر فتویٰ دیں یا مجھے بتائیں میں کیا کروں؟
شریعت نے نکاح کے معاملہ میں والدین اور اولاد دونوں کو حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند کی رعایت کریں، والدین اپنے بچوں کا کسی ایسی جگہ نکاح نہ کروائیں جہاں وہ بالکل راضی نہ ہوں،اپنی پسند کے ساتھ بچوں کی رضامندی کا بھی ضرور خیال رکھیں،اس لیے کہ عاقل بالغ مرد اورعورت کو شریعت نے یہ حق دیاہے کہ اپنی پسند اورمرضی سے نکاح کرے ، اس سلسلے میں والدین کی طرف سے دباؤ، اعتراض اورناراضگی کا اظہارکرنادرست نہیں۔ ہاں خاندانی کفاءت اوربرابری نہ ہونے کی صورت میں والدین کواعتراض اورناراضی کا حق شریعت کی طرف سےحاصل ہے۔
اسی طرح بچے بھی ایسی جگہ نکاح کرنے پر مصر نہ ہوں جہاں والدین بالکل راضی نہ ہوں؛ اس لیے کہ جب اولاد اپنی مرضی سے کسی جگہ شادی کرتی ہے اور اس میں شرعی احکام اور والدین کی رضامندی کی رعایت نہیں رکھتی تو عمومًا یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں ، اس طرح کی شادی میں لڑکا اور لڑکی کے وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجتًا ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اور علیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پرکھ کا تجربہ رکھنے والے والدین اورخاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائیدارثابت ہوتے ہیں۔ اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کارہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کو چاہیے کہ وہ چھپ کر نکاح کرکے اپنے ذمہ کوئی بوجھ اٹھانےکے بجائے اپنےبڑوں پراعتماد کرے، ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائے،اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا واستخارہ جاری رکھے اور"یَا وَدُودُ " کثرت سے پڑھے۔
نیزواضح رہے کہ بلا عذر لڑکی کے رشتے میں تاخیر کرنا شرعی اعتبار سے صحیح نہیں ہے خصوصاً اس وقت جب کہ اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے، جامع ترمذی میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ اے علی تین چیزوں میں دیر نہ کرو۔ نماز جب کہ اس کا وقت ہو جائے جنازہ جب کہ حاضر ہو اور بے نکاحی عورت جب اس کے لئے کفو (مناسب رشہ) مل جائے،لہذاسائلہ کے والدین کو بھی چاہیے کہ جب لڑکے میں اور اس کے خاندان میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور لڑکا لڑکی کا کفو(ہم پلہ ) بھی ہے تو صرف زیادہ مہرنہ دینے کی وجہ سے انکار نہ کریں ۔
لیکن جب تک سائلہ کا مذکورہ شخص سے نکاح نہ ہو تو سائلہ کے لئے مذکورہ شخص سے بات چیت کرنا ،ملاقات کرنا یا کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ،اب تک جو گناہ ہوچکے ہیں اس پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لئے ان گناہوں سے دور رہنے کا پکا عزم کریں ،کوشش کریں کہ اپنے آپ کو کسی صحیح کام میں مصروف رکھیں ،فارغ نہ بیٹھیں کہ گناہ کے خیالات آئیں ،نمازوں کا اہتمام کریں ،مسنون اذکارکا اہتمام کریں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
خود کشی کا خیال آئے تو اس پر تو بہ کریں اور اس عمل پر احادیث میں جو وعید وارد ہوئی ہے اس کو یاد کریں ،جیسے کہ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے:
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمايا: جس نے اپنے آپ كو پہاڑ سے گرا كر قتل كيا تو وہ جہنم كى آگ ميں ہميشہ كے ليے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پي كر اپنے آپ كو قتل كيا تو جہنم كى آگ ميں زہر ہاتھ ميں پكڑ كر اسے ہميشہ پيتا رہے گا، اور جس نے كسى لوہے كے ہتھيار كے ساتھ اپنے آپ كو قتل كيا تو وہ ہتھيار اس كے ہاتھ ميں ہو گا اور ہميشہ وہ اسے جہنم كى آگ ميں اپنے پيٹ ميں مارتا رہے گا۔"
سنن ترمذی میں ہے:
"1075 - حدثنا قتيبة قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا " هذا حديث غريب، وما أرى إسناده بمتصل".
(أبواب الجنائز، باب ما جاء في تعجيل الجنازة، 3/ 379 ت شاكر، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " «من تردى من جبل فقتل نفسه ; فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه ; فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن قتل نفسه بحديدة، فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا» ". متفق عليه.
قال الطيبي رحمه الله: والظاهر أن المراد من هؤلاء الذين فعلوا ذلك مستحلين له وإن أريد منه العموم، فالمراد من الخلود والتأبيد المكث الطويل المشترك بين دوام الانقطاع له، واستمرار مديد ينقطع بعد حين بعيد لاستعمالهما في المعنيين، فيقال: وقف وقفا مخلدا مخلدا مؤبدا، وأدخل فلان حبس الأبد، والاشتراك والمجاز خلاف الأصل فيجب جعلهما للقدر المشترك بينهما للتوفيق بينه وبين ما ذكرنا من الدلائل."
(كتاب القصاص،رقم الحديث:3453، ج:6، ص:2262، ط:دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102300
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن