بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

پڑوسی کے راستہ میں دروازہ لگانے کا حکم


سوال

ایک شخص ایک بلڈنگ کے تیسرے فلور پر رہائش پذیر ہے ،اپنے گھر کے دروازے کے علاوہ ایک دروازہ تیسرے فلور کی ابتدا میں بھی لگوا رہا ہے، جو بالکل دوسرے فلور کے گھر کے مین گیٹ کے دروازے سے جڑا ہوا ہے، جس سےاس حد تک  جگہ تنگ ہو گئی ہے،  کہ اگر  اُس دروازے کا ایک پاٹ کھلا ہوا ہو ،تو دوسرے فلور کا دروازہ کھل نہیں پاتا، اور بھی بہت ساری تکالیف کا سامنا ہے۔

ایسی صورت میں دین اسلام کی کیا تعلیمات ہیں ؟

جواب

کسی بھی شخص کے لیے اپنے گھر یا جائیداد میں ایسی تبدیلی کرنا جس سے اس کے پڑوسی کو نقصان پہنچے شرعاً ناجائز ہے ، نیز بلڈنگ کی سیڑھیوں اور راستے پر  تمام  بلڈنگ  کے رہائشوں کا برابر  حق ہے،

لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ شخص جو تیسری منزل کا رہائشی ہو اس کے لیے اپنے گھر / فلیٹ کے دروازے  کے علاوہ  ایسی جگہ پر دروازہ لگا رہا ہے جس سے گزرنے والوں کے لیے جگہ تنگ ہوجائے اور گزرنے والوں کو اذیت پہنچے تو ناجائز  ہوگا، البتہ اگر اس طرح لگائے کہ گذرنے والوں کی جگہ بھی تنگ  نہ ہو اور ان کو تلکلیف بھی نہ پہنچے تو یہ جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أن من تصرف في خالص ملكه لا يمنع ولو أضر بغيره، لكن ترك القياس في محل يضر بغيره ضررا بينا، وقيل وبه أخذ كثير من المشايخ وعليه الفتوى ۔

وفيه أراد أن يبني في داره تنورا للخبز دائما أو رحى للطحن أو مدقة للقصارين يمنع عنه لتضرر جيرانه ضررا فاحشا."

(کتاب البیوع، باب المتفرقات من أبوابھا، ج:5، ص:237، ط:سعيد)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"ذكر شيخ الإسلام أن الطريق إذا كان مشتركا بين رجلين، فبا ع أحدهما نصف نصيبه من هذا الطريق، لايجوز البيع إلا برضا شريكه۔

فعلى هذا السكة إذا كانت غير نافذة باع واحد من أهل السكة شيئا من داره أو آجر لايجوز إلا برضا الباقين."

(کتاب البیوع، باب المتفرقات، ج:9،ص:425،ط:مكتبة زكريا،ديوبند هند)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801100575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں