
میرے سالے کے پاس گاڑی تھی، اس نے مجھے کہا کہ آپ مخصوص علاقے سے تیل لانے کے لیے حکومت سے پرمٹ لے لیں، اس کے بعد اس گاڑی سے جو نفع حاصل ہوگا وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔
میں نے حکومت کی طرف سے پرمٹ حاصل کیا اور اس پر سالے کی گاڑی چلاتا رہا اور نفع آدھا آدھا کرتا رہا، اب اس سالے نے گاڑی اور پرمٹ دونوں اپنے قبضہ میں لے لیا اور کہتا ہے کہ اس میں آپ کا حق نہیں بنتا اور ساتھ میں یہ کہتا ہے کہ یہ اسٹیکر میرے نام پر کردو۔
کیا میرا اس گاڑی کے نفع میں حق بنتا ہے جو میرے اور میرے سالے کے درمیان طے ہوا تھا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں پرمٹ سائل کا ہے، اور گاڑی سالے کی ہے، اور اس کو گاڑی واپس لینے کا مکمل حق حاصل ہے، باقی سائل کا پرمٹ کی بنیاد پر اس طور معاہدہ کرنا جو نفع ہوگا وہ آدھا آدھا ہوگا شرعاً درست نہیں بلکہ ایسی صورت میں گاڑی چلانے کی وجہ سے جو نفع ہوا وہ سائل کا ہوگا، البتہ سالے کو ان ایام میں گاڑی دینے کی اجرت مثل (مارکیٹ ریٹ) ملے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت."
(كتاب الشركة، فصل فى الشركة الفاسدة، ج:4، ص:326، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101905
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن