بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پرندوں کی بیٹ کے نشانات والے مقام پر نماز ادا کرنا


سوال

اگر نماز پڑھنے والی جگہ پر پرندوں کی بیٹ کے نشانات ہیں، اور وہ خشک ہو چکے ہیں،  تو کیا نماز ہوجائے گی؟ 

جواب

واضح رہے کہ پرندوں کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم پرندے  وہ ہیں: جو ہوا میں اڑتے ہیں اور ہوا میں ہی بیٹ کرتے ہیں۔ جیسےکہ کبوتر، طوطا، چیل اور کوے وغیرہ اور دوسری قسم کے پرندے وہ ہیں: جو  عموماًہوا میں نہیں اڑتے اور زمین میں ہی  بیٹ وغیرہ کرتے ہیں۔ جیسے کہ مرغی، بطخ وغیرہ، ہر ایک کا حکم درج ذیل ہے: 

1۔  ہوا میں اڑنے والےپرندوں کی بیٹ سے بچنا دشوار اور ناممکن ہے، پھر ان پرندوں کی بھی دو قسمیں ہیں:

الف:پہلی قسم کے پرندے(ماکول اللحم)وہ ہیں، جن کا  گوشت کھانا شرعاً حلا ل ہیں، جیسا کہ کبوتر وغیرہ،لہذا  ان حلال پرند چرند کی بیٹ  بھی شرعاً پاک ہے، چناں چہ اگر یہ پرندے مسجد کی صف پر بیٹ کریں اور وہ چاہے گیلی ہو سوکھ کر خشک ہوجائے اور صرف نشانات باقی رہ جائے بہرحال دونوں صورتوں میں ایسی صفوں میں نماز ادا کرنے نماز کی ادائیگی شرعامعتبر ہوگی،البتہ صف كے جس حصے پر بیٹ لگی  ہو اس كو  بدبو اور طبعی کراہت کی وجہ سے صاف کرلینا بہتر ہے۔

ب:دوسرے قسم کے پرندے(غیر ماکول اللحم) وہ ہیں، جن کا گوشت کھانا شرعاً حلال نہیں ہے، ان کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے،اور نجاست خفیفہ جب تک کسی چیز کے چوتھائی حصے تک نہ پہنچے تب تک معاف ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دوسری قسم کےپرندے مسجد کی صف پر بیٹ کریں اوربيٹ صف کے چوتھائی حصے سے کم پر لگي ہو تو  اس پر نماز پڑھنا جائز ہوگا، البتہ صف كے جس حصے پر بیٹ لگی  ہو اس كو  بدبو اور طبعی کراہت کی وجہ سے صاف کرلینا چاہیے۔

2۔وہ پرندے جو عموما ہوا میں نہیں اڑتے اور زمین میں ہی بیٹ وغیرہ کرتے ہیں:جیسے مرغی اور بطخ وغیرہ، اُن کی بیٹ ”نجاست غلیظہ“ ہے۔لہذا اگر مذکورہ اقسام کے پرندے نماز کی صف و جائے نماز وغیرہ میں بیٹ کردیں اوربیٹ کی مقدار  مجموعی طور پر ایک روپے کے  بڑے سکے کے پھیلاؤ سے زیادہ ہوں تو اس صف یا جائے نماز میں نماز پڑھنے کی صورت میں نماز ادا نہیں ہوگی اور اعادہ ضروری ہوگا، اور اگر ایک روپے کے بڑے سکے سے پھیلاؤ کم ہو تو نماز ہوجائے گی۔  

نیز اگر پرندوں کی بیٹ زمین یا مسجد کے فرش پر لگی ہو اور وہ خشک ہو جائے اور اس کا اثر (رنگ و بو) ختم ہو جائے تو وہ جگہ پاک ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر کپڑے یا جسم پر نجاست لگی ہو تو اسے دھونا ضروری ہے، صرف خشک ہونا کافی نہیں ہے۔

حوالہ جات:

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وذرق ما يؤكل ‌لحمه ‌من ‌الطير ‌طاهر عندنا مثل الحمام والعصافير. كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الطهارة،الباب السابع في النجاسة وأحكامها،الفصل الثاني في الأعيان النجسة،46/1،ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وخرء) كل طير لا يذرق في الهواء كبط أهلي (ودجاج) أما ما يذرق فيه، فإن مأكولا فطاهر وإلا فمخفف"

(باب الأنجاس، ج: 1، ص: 230، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(‌وعفي ‌دون ربع) جميع بدن و (ثوب) ولو كبيرا هو المختار، ذكره الحلبي ورجحه في النهر على التقدير."

(باب الأنجاس، ج: 1، ص: 321، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

’’(و منها) خرء بعض الطيور من الدجاج و البط، و جملة الكلام فيه أن الطيور نوعان: نوع لا يذرق في الهواء و نوع يذرق في الهواء.

(أما) ما لايذرق في الهواء كالدجاج و البط فخرؤهما نجس؛ لوجود معنى النجاسة فيه، و هو كونه مستقذرا لتغيره إلى نتن و فساد رائحة فأشبه العذرة، و في الإوز عن أبي حنيفة رحمه الله روايتان، روى أبو يوسف رحمه الله عنه أنه ليس بنجس، و روى الحسن رحمه الله عنه أنه نجس، (و ما) يذرق في الهواء نوعان أيضا: ما يؤكل لحمه كالحمام و العصفور و العقعق و نحوها، و خرؤها طاهر عندنا، و عند الشافعي نجس، وجه قوله أن الطبع قد أحاله إلى فساد فوجد معنى النجاسة، فأشبه الروث و العذرة. (و لنا) إجماع الأمة فإنهم اعتادوا اقتناء الحمامات في المسجد الحرام و المساجد الجامعة مع علمهم أنها تذرق فيها، و لو كان نجسا لما فعلوا ذلك مع الأمر بتطهير المسجد، و هو قوله تعالى: {أن طهرا بيتي للطائفين} [البقرة: 125] و روي عن ابن عمر - رضي الله عنهما - أن حمامة ذرقت عليه فمسحه و صلى، و عن ابن مسعود - رضي الله عنه - مثل ذلك في العصفور، و به تبين أن مجرد إحالة الطبع لا يكفي للنجاسة ما لم يكن للمستحيل نتن و خبث رائحة تستخبثه الطباع السليمة، و ذلك منعدم ههنا على أنا إن سلمنا ذلك لكان التحرز عنه غير ممكن؛ لأنها تذرق في الهواء فلا يمكن صيانة الثياب و الأواني عنه، فسقط اعتباره للضرورة كدم البق و البراغيث و حكى مالك في هذه المسألة الإجماع على الطهارة، و مثله لا يكذب فلئن لم يثبت الإجماع من حيث القول يثبت من حيث الفعل و هو ما بينا."

(كتاب الطهارة،فصل في الطهارة الحقيقية،62/1، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و عفا) الشارع (عن قدر درهم) و إن كره تحريما، فيجب غسله، و ما دونه تنزيها فيسن، و فوقه مبطل فيفرض، و العبرة لوقت الصلاة لا الإصابة على الأكثر، نهر.

وقد نقله أيضاً في الحلية عن الينابيع، لكنه قال بعده: والأقرب أن غسل الدرهم وما دونه مستحب مع العلم به والقدرة على غسله، فتركه حينئذ خلاف الأولى، نعم الدرهم غسله آكد مما دونه، فتركه أشد كراهةً كما يستفاد من غير ما كتاب من مشاهير كتب المذهب. ففي المحيط: يكره أن يصلي ومعه قدر درهم أو دونه من النجاسة عالماً به؛ لاختلاف الناس فيه."

(‌‌کتاب الطهارۃ،باب الأنجاس،ج:1،ص:318،317،316،ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا نزح) في بول فأرة في الأصح فيض، ولا (بخرء حمام وعصفور) وكذا سباع طير في الأصح لتعذر صونها عنه۔۔۔ قال ابن عابدین: (قوله حمام وعصفور) أي ونحوهما مما يؤكل لحمه من الطيور سوى الدجاج والإوز (قوله في الأصح) راجع إلى قوله وكذا سباع طير أي مما لا يؤكل لحمه من الطيور، وهذا ما صححه في المبسوط وصحح قاضي خان في جامعه النجاسة بحر (قوله لتعذر صونها) أي البئر عنه: أي عن الخرء المذكور.

ومفاد التعليل أنه نجس معفو عنه للضرورة، وفيه اختلاف المشايخ، لكن الذي اختاره في الهداية وكثير من الكتب أنه ليس بنجس عندنا للإجماع العملي على اقتناء الحمامات في المسجد الحرام من غير نكير مع العلم بما يكون منها كما في البحر. قال: ولم يذكروا لهذا الخلاف فائدة مع اتفاقهم على سقوط حكم النجاسة. اهـ. قلت: يمكن أن تظهر في التعاليق، وكذا إذا رماه في الماء قصدا فإنه لا ضرورة في ذلك لكونه بفعله. وما في النهر من أنها يمكن أن تظهر فيما لو وجدها على ثوب وعنده ما هو خال عنها لا تجوز الصلاة فيه على العفو لانتفاء الضرورة وتجوز على الطهارة. اهـ. قال ط: فيه نظر، إذ مقتضاه عدم جواز التطهر فيه بهذا الماء حيث وجد غيره۔۔۔ولا فرق بين أن يكون للبئر حاجز كالمدن أو لا كالفلوات هو الصحيح."

(كتاب الطهارة،‌‌باب المياه،‌‌فصل في البئر،220/1، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وكذلك الخمر والدم المسفوح ولحم الميتة وبول ما لا يؤكل والروث وأخثاء البقر والعذرة ونجو الكلب وخرء ‌الدجاج والبط والإوز نجس نجاسة غليظة هكذا في فتاوى قاضي خان وكذا خرء السباع والسنور والفأرة. هكذا في السراج الوهاج بول الهرة والفأرة إذا أصاب الثوب قال بعضهم: يفسد إذا زاد على قدر الدرهم وهو الظاهر."

(كتاب الطهارة،الباب السابع في النجاسة وأحكامها،الفصل الثاني في الأعيان النجسة،ج:1،ص:46،ط:رشيدية)

الجوہرۃ النیرہ میں ہے:

"(قوله: وإذا ‌أصابت ‌الأرض ‌نجاسة ‌فجفت ‌بالشمس وذهب أثرها جازت الصلاة على مكانها) .

وقال زفر والشافعي رحمهما الله لا تجوز؛ لأنه لم يوجد المزيل ولهذا لم يجز التيمم منها ولنا قوله: عليه السلام «ذكاة الأرض يبسها» وقيد بالأرض احترازا عن الثوب والحصير وغير ذلك فإنه لا يطهر بالجفاف بالشمس ويشارك الأرض في حكمها كل ما كان ثابتا فيها كالحيطان والأشجار والكلأ والقصب ما دام قائما عليها فإنه يطهر بالجفاف فإذا قطع الحشيش والخشب والقصب وأصابته نجاسة لا يطهر إلا بالغسل، وأما الحجر فذكر الخجندي أنه لا يطهر بالجفاف.

وقال الصيرفي إذا كان أملس فلا بد من الغسل، وإن كان يشرب النجاسة فهو كالأرض والحصا بمنزلة الأرض.

(قوله: فجفت بالشمس) التقييد بالشمس ليس بشرط، بل لو جفت بالظل فحكمه كذلك.

(قوله: وذهب أثرها) الأثر اللون والرائحة والطعم وإذا ثبت أنها تطهر بالجفاف."

(كتاب الطهارة،باب الأنجاس،37/1،المطبعة الخيرية)

بہشتی زیور میں ہے:

”اگر نجاستِ غلیظہ میں سے گاڑھی چیز لگ جاوے جیسے پاخانہ اور مرغی وغیرہ کی بیٹ،تو اگر وزن میں ساڑھے چار ماشہ یا اس سے کم ہو تو بے دھوئے ہوئے نماز درست ہے،اور اگر اس سے زیادہ لگ جاوے تو بےدھوئے ہوئے نماز درست نہیں ہے۔“

(نجاست کے پاک کرنے کا بیان،دوسرا حصہ،ص:82،ط:اسلامک بک سروس)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101041

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں