
ہم دو علماء ہیں ہمارے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہوا ، ایک عالم کا کہنا ہے کہ چہرہ کا پردہ اصلا فرض نہیں ہے، اگر خوف فتنہ ہو تو پھر چہرہ کا پردہ فرض ہوگا ویسے نہیں ہے جبکہ دوسرے عالم کا کہنا ہے کہ چہر کا پردہ فرض ہے چاہے فتنہ کا خوف ہو یا نہیں ہو اگر فتنہ کا خوف ہو تو حکم میں شدت آجاتی ہے۔ براہ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سوال کے جواب میں امداد الفتاوی کا فتاوی ملاحظہ فرمائیں:
حکم پرده زنان : سوال (۲۲۰۰) پردہ کی نسبت کیا حکم ہے، آیا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا کیا ؟
الجواب : پردہ کے دو معنی ہیں، ایک ستر اوردو سرا حجاب ، ستر تو فرض ہے تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد کو مرد کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے مگر ناف سے زانوں تک جائز نہیں، اور عورت کو عورت کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے۔ اور اپنی مملوکہ حلال شریعی اور اپنی زوجہ کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے،اور اپنے محارم کا منھ اور سر اور سینہ اور پنڈلیاں اور دونوں بازو دیکھنا بشرط امن شہوت جائز ہے،اور ان کی پشت اور شکم دیکھنا جائز نہیں اور غیر مملوکہ کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے اور اجنبی آزاد عورت کا کچھ دیکھنا جائز نہیں مگر ہتھیلیاں دیکھنا بشرط امن شہوت ہے اور اگر شہوت کا خوف ہو تو بغیر حاجت ضروری شرعی دیکھنا جائز نہیں ، ہاں اگر حاجت ہو جیسے حاکم حکم کرتے وقت اور گواہ کو شہادت کے وقت چہرہ دیکھنا جائز ہے اور طبیب کو موضع مرض دیکھنا جائز ہے اگرچہ لوگوں کو خوف شہوت کا ہو باقی حتی الوسع شہوت کو دل سےدور کرے چنانچہ یہ روایت قدوری کی شاہد اس مضمون کی ہے:
"ولا يجوز أن ينظر الرجل من الأجنبية إلا إلى وجهها وكفيها وإن كان لا يأمن الشهوة لا ينظر إلى وجهها إلا لحاجة ويجوز للقاضي إذا أرد أن يحكم عليها وللشاهد إذا أراد الشهادة عليها النظر إلى وجهها وإن خاف أن يشتهي ويجوز للطبيب أن ينظر إلى موضع المرض منها وينظر الرجل من الرجل إلى جميع بدنه إلا ما بين سرته إلى ركبته ويجوز للمرأة أن تنظر من الرجل إلى ما ينظر الرجل إليه منه وتنظر المرأة من المرأة إلى ما يجوز للرجل أن ينظر إليه من الرجل وينظر الرجل من أمته التي تحل له وزوجته إلى فرجها وينظر الرجل من ذوات محارمه إلى الوجه والرأس والصدر والساقين والعضدين ولا ينظر إلى ظهرها وبطنها ولا بأس أن يمس ما جاز أن ينظر إليه منها وينظر الرجل من مملوكه غيره إلى ما يجوز أن ينظر إليه من ذوات محارمه."
دوسرا حجاب ہے جو آج کل شرفا میں معمول ہے، کہ عورت مرد اجنبی کو بالکل بدن نہیں دکھاتی، اور غالبا غرض سائل کی اسی کا پوچھنا ہے ، پس یہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات پر تو فرض تھا ، لقوله تعالىوقرن في بيوتكن ولقوله تعالى و اذا سألتموهن متاعا فسئلوهن من وراء حجاب اور مومنین امت کی عورتوں پر فرض نہیں، چنانچہ روایت بالا سے معلوم ہو چکا کہ اجنبی عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بشرط امن شہوت جائز ہے، البتہ یہ حجاب سنت اور استحسانی ہے، اور به نظر مصلحت و رفع شر وفتنہ ضروری ہے ، لقوله تعالى يا ايها النبي قل لازواجك و بناتك و نساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن ذلك ادنَ ان يعرفن فلا يؤذين الخ ۔
تفسیر حسینی میں ہے "گویندند درشان زانیان ست که شبها بر سه راه ہانشستندے و دست تعدی بدامین کنیزان رسانیدے ۔ وسعدی رو می فرماید که دران وقت حرا ئر را علامت آن بود که سهر پوشیده در راه افتندی دبواری سر بر ہنه بودندے چوں، آن به کاران از سر پوشیدگان تحاشی می نمودند لا جرم آیه آمد اے پیغمبر بگو مر زنان خود را د دختران خود را و زنان مومنان را که بوقت بیروں رفتن از خانه نزدیک گردانند و فرد گذارند بر رو نہائے وبد نہائے خویش چاد رہائے خود را یعنی وجوه ابدان پوشنده این پوشیدن سر و روئے و بدن نزدیک تر است با آنکه ایشاں را بشناسند بصلاح و عفت یا متمیز شوند بآزادی پس ایذار کرده نشوند یعنی آن زانیان تعرض نه کنند ایشان را انتہی اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم فتنہ کے سبب سے ہوا،
و في الدر المختار صفحہ ۲۷۲ من الجلد الاولوتمنع المرأة الشابة من كشف الوجه بين رجال لا لأنه عورة بل لخوف الفتنة كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة كما يأتي
حضرت شاہ ولی الله صاحب آیه کریمهقل للمؤمنات يغضضن من ابصارهن الايةکی تفسير ميس لکھتے ہیں -- مترجم گوید که حاصل این آیت آنست که مواضع زینت دو تقسیم است، آنچه درستر آں حرج است و آں وجہ و کفین بود و آنچه در رستر آں حرج نیست مانند سر و گردن و عضد و ذراع و ساق پس ستر وجه وکفین از اجنبیان فرض نیست بلکه سنت است . ستر غیر آن از اجنبیان فرض است نه از محارم والله اعلم ، فتح الرحمن ، اور حضرت شاہ عبد القادر صاحب آیه کریمه فاسئلوهن من وراء حجابلآیة کی تفسیر میں فرماتے ہیں اور اس آیت میں حکم ہوا پردہ کا کہ مرد حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے سامنے نہ جائیں، سب مسلمانوں کی عورتوں پر یہ حکم واجب نہیں، اگر عورت سامنے ہو کسی مرد کے سب بدن کپڑوں میں ڈھکا ہو تو گناہ نہیں، اور اگر نہ سامنے ہو تو بہتر ہے موضح القرآن ۔
پس خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ستر فرض ہے اور حجاب بنظر مصلحت واجب ہے واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم ۲۸ ر شعبان يوم الاربعاء۱۳۰۰ھ
سوال بریں فتوی : آپ کی تحریر سے ثابت ہوا کہ پردہ جائز ہے ، اگر نہ کرے تو گناہ نہیں اور مصلحۃ واجب کسے کہتے ہیں اس کا مفصل حال لکھو؟
الجواب: میری تحریر سے جائز ہونا پردہ کا ثابت نہیں ہوتا ، خود یہ عبارت اس میں موجود ہے (پس ستر وجه وکفین از اجنبیان فرض نیست ، بلکہ سنت است )پس جائز ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا، اور یہ جو لکھا ہے کہ اگر کوئی نہ کرے تو گناہ نہیں، یہ بھی ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عبارت اس میں موجود ہے( اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم فتنہ کے سب سے ہوا)، تو جو حکم کسی علت سے ہوتا ہے جب وہ علت پائی جائے گی حکم بھی ضرور پایا جائے گا ، پس جب پردہ کا حکم به علت خوف فتنہ ہو ا تو جہاں خوف و اندیشہ فتنہ ہوگا جیسے جوان عورت میں اس پر یہ حکم بھی ضرور واجب ہو گا، اگر نہ کرے گی تارک واجب اور گنہگار ہوگی ، البتہ جہاں احتمال فتنہ کا نہ ہو جیسے ساٹھ ستر برس کی بڑھیا تو اس پر یہ حکم بھی واجب نہیں، اور اگر وہ پردہ نہ کرے تو گنہگار نہ ہوگی، ہاں تارک سنت ہے اور واجب مصلحۃً کے یہ معنی نہیں کہ لوگوں نے مصلحت دیکھ کر واجب کردیا، بلکہ معنی ہیں کہ شریعت نے اس کا وجوب ایک مصلحت پر مبنی رکھا ہے جب وہ مصلحت ہوگی وجوب بھی رہے گا، جب وہ مصلحت نہ ہوگی وجوب بھی نہ رہے گا، جیسا پردے میں مصلحت رفع شر و فتنہ ہے وجودہ بوجودها وعدمه بعدمها بخلاف دیگر و اجبات مطلقہ کے کہ اُن میں حکم قائم مقام علت کے ہو جایا کرتا ہے ، كما لا يخفى على من له ادنى مسكة في الفقة هذا ما عندي، والله اعلم"
(کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:۴،ص :۱۸۰، مکبتہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100461
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن