بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

پردے کی اہمیت اور والدین کی ذمہ داری


سوال

اگر  والدین اپنی بیٹی کو حجاب کرنے کا کہتے ہیں، لیکن وہ حجاب نہیں کرنا چاہتی۔ پھر والدین کے بار بار سمجھانے یا کہنے کی وجہ سے وہ تنگ آ کر یا دل میں نفرت کے ساتھ حجاب کرنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ اس کا دل بالکل نہیں ہوتا اور وہ صرف لوگوں یا دباؤ کی وجہ سے حجاب کر رہی ہوتی ہے، تو کیا یہ حجاب نہ کرنے سے بھی زیادہ برا ہے؟

کیونکہ حجاب تو زبردستی نہیں کروایا جا سکتا نا؟ اگر کسی کو بار بار کہنا بھی اس کے لیے زبردستی جیسا محسوس ہونے لگے، جو کہ ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے، تو پھر ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟تو اگر بیٹی کو بار بار کہنے کی وجہ سے پردے سے نفرت ہونے لگے، وہ صرف مجبوری میں پردہ کر رہی ہو، اور والدین سے بھی چڑ محسوس کرنے لگے، تو کیا ایسی صورت میں والدین کی ذمہ داری ادا ہو جاتی ہے؟ یا پھر انہیں سمجھاتے رہنا چاہیے؟ جبکہ زبردستی کرنا بھی درست نہیں، تو ایسی صورتِ حال میں صحیح طریقہ کیا ہے؟

2۔کیا والدین کی ذمہ داری سمجھا دینے کے بعد ختم ہو جاتی ہے؟ لیکن پھر دیوث والی حدیث بھی ہے، جس کے مطابق اگر گھر کی عورتیں پردہ نہ کریں تو والد پر بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ اسلام نے معاشرے سے بے حیائی اور آوارگی کو ختم کرنے اور ایک پاکیزہ اور باعفت معاشرہ قائم کرنے کے لیے حجاب کا حکم دیا ہے۔ حجاب عورت کی عزت، عفت اور تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔ حجاب کے اہتمام کے بغیر بے حیائی اور فحاشی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ اسی طرح حجاب کے بغیر عورتوں کے مکمل تحفظ کا تصور بھی محض ایک خواب ہے۔

یقیناً اسلامی حجاب پوری انسانی برادری کو پُرسکون، باوقار اور پاکیزہ زندگی دینے کا ایک فطری طریقہ ہے۔ اسی لیے اسلام نے پردے کی بہت تاکید کی ہےاور  پردہ کو لازم کیا ہے۔قرآنِ کریم میں پردۂ نسواں اور اس کے احکام و تفصیلات کے متعلق متعدد آیات نازل ہوئی ہیں، جبکہ ستر سے زائد احادیث میں بھی پردے کے احکام قولاً اور عملاً بیان کیے گئے ہیں۔

قرآن مجید میں  ہے:

 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً ( سورة الاحزاب أية:59)

ترجمہ:" اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمان کی بیبیوں سے بھی کہہ  دیجیئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں  اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور الله تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔" ازبیان القرآن)

مفتی شفیع ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہے :

" آیت مذکورہ میں حرہ (آزاد) عورتوں کے پردہ کے لئے یہ حکم ہوا ہے کہ (آیت) یدنین علیہن من جلابیبہن، اس میں یدنین ، اوناً سے مشتق ہے، جس کے لفظی معنی قریب کرنے کے ہیں اور لفظ علیہن کے معنی اپنے اوپر اور جلابیب جمع جلباب کی ہے جو ایک خاص لمبی چادر کو کہا جاتا ہے، اس چادر کی ہئیت کے متعلق حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ وہ چادر ہے جو دوپٹہ کے اوپر اوڑھی جاتی ہے (ابن کثیر) اور حضرت ابن عباس نے اس کی ہئیت یہ بیان فرمائی ہے :”اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں کے اوپر سے یہ چادر لٹکا کر چہروں کو چھپا لیں اور صرف ایک آنکھ (راستہ دیکھنے کے لئے) کھلی رکھیں“
اور امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب اور جلباب کی کیفیت دریافت کی تو انہوں نے سر کے اوپر سے چادر چہرہ پر لٹکا کر چہرہ چھپا لیا، اور صرف بائیں آنکھ کھلی رکھ کر ادنا وجلباب کی تفسیر عملاً بیان فرمائی۔سر کے اوپر سے چہرہ پر چادر لٹکانا جو حضرت ابن عباس اور عبیدہ سلمانی کے بیان میں آیا ہے یہ لفظ علیہن کی تفسیر ہے کہ اپنے اوپر چادر کو قریب کرنے کا مطلب چادر کو سر کے اوپر سے چہرہ پر لٹکانا ہے۔"

(معارف القرآن ، سورۃ الاحزاب،  ج:7، ص:204، ط:دارالعلوم کراچی)

احادیث مبارکہ میں  بھی حضور صل اللہ علیہ وسلم نے بھی  پردے کے بارے میں ارشاد فرمایا ہےحضور  صلی اللہ علیہ وسلم   کا  ارشاد مبارک ہے کہ: عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانکتا ہے۔یعنی شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس بات پر اُبھارے کہ وہ اس عورت کو دیکھ کر بدنظری اور دیگر گناہوں میں مبتلا ہوں۔
اللہ تعالیٰ کو عورت کا پردے میں رہنا اتنا پسند ہے کہ عورت جتنا پردے میں رہتی ہے اور جتنا زیادہ اپنے آپ کو نا محرم مردوں سے چھپاتی ہے تو اتنا ہی اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتا ہے، اور عورت اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے کسی کونے اور پوشیدہ جگہ میں ہو۔ اس سے عورت کے لیے پردہ کرنے ، پردے میں رہنے اور بلا ضرورت گھر سے نہ نکلنے کی بڑی فضیلت واہمیت معلوم ہوتی ہے۔

نیز والد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت کا اہتمام کرے، انہیں بنیادی دینی تعلیمات اور شرعی احکام سے آگاہ کرے، فرائضِ شرعیہ، حلال و حرام اور جائز و ناجائز امور کی تعلیم دے، نیز انہیں نیک اعمال کی ترغیب دے اور برے اعمال سے روکے، اور اپنی استطاعت کے مطابق ان احکام پر عمل کرانے کی کوشش کرے۔

قرآن مجید میں ہے:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدَادٌ لا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ  (سورة التحريم أية:6)

 ترجمہ:" اے ایمان والو تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی ) اس آگ سے بچاؤ ، جس کا ایندھن (اور سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں جس پر تند خو (اور) مضبوط فرشتے (متعین ) ہیں جو خدا کی (ذرا ) نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو ان کو حکم دیتا ہے . اور جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو فوراً بجالاتے ہیں ۔ "(ازبیان القرآن)

معارف القرآن میں ہے:

حضرات فقہا نے فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنی بیوی اور اولاد کو فرائض شرعیہ اور حلال و حرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لئے کوشش کرے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمت نازل کرے جو کہتا ہے اے میرے بیوی بچو، تمہاری نماز، تمہارا روزہ ، تمہاری زکوٰة، تمہارا مسکین، تمہارا یتیم، تمہارے پڑوسی، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اسکے ساتھ جنت میں جمع فرمائیں گے۔ تمہاری نماز، تمہارا روزہ وغیرہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا خیال رکھو اس میں غفلت نہ ہونے پائے اور مسکینکم یتیمکم وغیرہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جو حقوق تمہارے ذمہ ہیں ان کی خوشی اور پابندی سے ادا کرو اور بعض بزرگوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں وہ شخص ہوگا جس کے اہل وعیال دین سے جاہل وغافل ہوں (روح) عام مومنین کی نصیحت کے بعد کفار کو خطاب ہے کہ اب تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آرہا ہے اب کوئی عذر کسی کا قبول نہیں کیا جاسکتا يٰٓاَ يُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَکا یہی مطلب ہے۔

(سورۃ  التحریم، ج:8، ص:502، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

 لہٰذا صورت مسئولہ میں پردہ نہ کرنا، یا پردہ کرتے ہوئے دل میں اس شرعی حکم سے نفرت رکھنا، دونوں درست نہیں ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ اولاً بیٹی کو حجاب کی اہمیت بیان کریں اور حجاب نہ کرنے کی دینی و اخروی مضرتوں سے آگاہ کریں، تاکہ وہ اپنی مرضی اور قلبی اطمینان کے ساتھ اس شرعی حکم پر عمل کرے، نیز اس کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حجاب کی محبت پیدا فرمائے۔

اگر اس کے باوجود وہ بات نہ مانے تو پہلے مناسب انداز میں اسے سمجھانے اور نصیحت کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اگر اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو والدین اپنی استطاعت کے مطابق مناسب تادیبی طریقہ اختیار کرسکتے ہیں، تاہم ایسی مارپیٹ ہرگز جائز نہیں جس سے جسمانی نقصان یا شدید اذیت پہنچے۔

2۔ " دیوث" اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے اہلِ خانہ میں بے حیائی اور فحاشی دیکھنے کے باوجود اس پر خاموش رہے، اسے برا نہ سمجھے یا اسے برقرار رکھنے پر راضی ہو۔ ایسا شخص اس وعید کا مستحق ہوسکتا ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ والدین  اپنی بیٹی کو پردے کا حکم دے رہے ہیں اور اسے پردے پر عمل کرانے کی کوشش بھی کررہے ہیں ، اس لیے محض بیٹی کے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے والدین اس وعید  میں نہیں آتے ۔

ترمذی شریف میں ہے:

" حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا عمرو بن عاصم، قال: حدثنا همام ، عن قتادة ، عن مورق ، عن أبي الأحوص، عن عبد الله ؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: المرأة عورة،  فإذا خرجت استشرفها الشيطان."

(أبواب الرضاع، ج:2، ص:463، ط: دار الغرب الإسلامي)

المفاتيح في شرح المصابيح  میں ہے:

"عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه قال: "المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان

قوله: "استشرفها الشيطان"، (استشرف): إذا نظر إلى شيء عن الاحتياط والتأمل، ومعناه هنا: أن شياطين الإنس نظروا إليها؛ لأن الطباع مائلة إلى النساء أكثر مما تميل إلى غير النساء، أو معناه: حمل الشيطان الرجال وأوقع في قلوبهم أن ينظروا إليها."

( كتاب النكاح، باب النظر إلى المخطوبة وبيان العورات، ج:4، ص:23، ط:دار النوادر)

بخاری شریف میں ہے:

" عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ألا كلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته، فالإمام الذي على الناس راع، وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية على أهل بيت زوجها وولده وهي مسئولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع، وكلكم مسئول عن رعيته."

كتاب الأحكام،قول الله تعالى:{أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم}،  ج:9، ص:181، ط:دار التأصيل   القاهرة)

شرح سنن أبي داود لابن رسلان  میں ہے:

"والديوث بالثاء المثلثة هو الذي يرى في أهله الفاحشة ويقرهم عليها."

(كتاب الطلاق، باب في اللعان، ج:10 ،ص:63، ط: دار الفلاح)

فقط واللہ أعلم.


فتویٰ نمبر : 144802101733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں