
انڈے والی مرغی کو ذبح کرنے کے بعد پوری مرغی کو گرم پانی میں ڈال کر ،یا کھولتے ہوئے گرم پانی کے پتیلے میں ڈال کر پھر نکال کے پَر صاف کرنا کیسا ہے؟یہاں اکثر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، پَر صاف کرنے کے لیے گرم گرم پانی میں مرغی کو ڈال دیتے ہیں کیا یہ اچھا عمل ہے؟
واضح رہے کہ اگر مرغی کو شرعی طریقے سے ذبح کرنے کے بعد جب اس کے جسم سے سانس ختم ہوجائے تواس کے پَر صاف کرنے کے لیے اسے گرم پانی میں تھوڑی دیر کے لیے ڈبونا جائز ہے، بشرط یہ کہ پانی جوش و غلیان کی حد تک نہ پہنچا ہو(یعنی پانی کے ابال میں شدت نہ آئی ہو)اور اس کا اثر صرف کھال تک محدود رہے،پانی كي حرارت گوشت تک نہ پہنچنے پائے۔
البتہ اگر مرغی کی ذبح میں کاٹی جانے والی رگیں(حلقوم، مرئی، ودجان) کٹ گئیں ہوں اور ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کو تیز گرم پانی میں ڈال دیا جاتا ہو تو ایسا کرنا مکروہ ہے، اس سے اجتناب كرنا چاهيے،نیز ایسی صورت میں اگر پانی ابلنے کی حد تک گرم ہو اور اس پانی کے اندر مرغی اتنی دیر تک پڑی رہے کہ اس کے نتیجے میں نجاست(الائش وغیرہ ) گوشت کے اندر سرایت کرجانے کا غالب گمان ہو جائے تو ایسی مرغی کا کھانا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و) كره كل تعذيب بلا فائدة مثل (قطع الرأس والسلخ قبل أن تبرد) أي تسكن عن الاضطراب."
(كتاب الذبائح، ج:6، ص:296، ط:سعيد)
فتح القدیر میں ہے:
"ولو ألقيت دجاجة حالة الغليان في الماء قبل أن يشق بطنها لتنتف أو كرش قبل الغسل لا يطهر أبدا، لكن على قول أبي يوسف يجب أن تطهر على قانون ما تقدم في اللحم.
قلت: وهو سبحانه أعلم هو معلل بتشربهما النجاسة المتحللة في اللحم بواسطة الغليان، وعلى هذا اشتهر أن اللحم السميط بمصر نجس لا يطهر لكن العلة المذكورة لا تثبت حتى يصل الماء إلى حد الغليان ويمكث فيه اللحم بعد ذلك زمانا يقع في مثله للتشرب والدخول في باطن اللحم، وكل من الأمرين غير متحقق في السميط الواقع حيث لا يصل الماء إلى حد الغليان ولا يترك فيه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلى سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف، بل ذلك الترك يمنع من جودة انقلاع الشعر، فالأولى في السميط أن يطهر بالغسل ثلاثا لتنجس سطح الجلد بذلك الماء فإنهم لا يحترسون فيه عن المنجس."
(كتاب الطهارات، باب الأنجاس وتطهيرها، ج:1، ص:210، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وكل ذلك مكروه لأنه تعذيب الحيوان بلا ضرورة، والحاصل أن كل ما فيه زيادة ألم لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه، كذا في الكافي."
(كتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح، ج:5، ص:288،ط:رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101067
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن