بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کے پاک یا ناپاک ہونے میں اختلاف کی بناء پر شک ہو تو کیا حکم ہے


سوال

ایک شخص کہتا ہے کہ اس ٹوٹی میں پانی بدبو والا آرہا ہے دوسرا شخص کہتا ہے کہ اس میں جو پانی آرہا ہے اس میں بدبو نہیں ہے تو اب کیا پانی پاک ہوگا یا ناپاک؟

جواب

نجاست کے وقوع اور عدم وقوع کی بناء پر پانی کے پاک یا ناپاک ہونے میں اگر اختلاف کی بناء پر شک ہے تو پانی پاک ہی سمجھاجائے گا،البتہ اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائےکہ  اس میں ناپاک چیز ملنے کی وجہ سے بدبو آرہی ہے تو وہ پانی ناپاک شمار ہوگا۔

العنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"وكذا ‌تعارض ‌الخبرين في الماء يوجب التهاتر والعمل بالأصل لوقوع الشك في اختلاط النجاسة به والأصل عدمه فبقي الماء على أصله وهو الطهارة..."

(کتاب الطہارات،ج1،ص116،دار الفکر)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"شك في وجود النجس فالأصل بقاء الطهارة  ولذا قال محمد رحمه الله: حوض تملأ منه الصغار، والعبيد بالأيدي الدنسة، والجرار الوسخة يجوز الوضوء منه ما لم يعلم به  نجاسة."

(ص:49،ألقاعدة الثالثة:اليقين لا يزول بالشك،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101169

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں