بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کو فلٹر کر کے بیچنے کا شرعی حکم


سوال

دکان میں بورنگ کے ذریعے پانی نکال کر، مختلف مشینوں کے ذریعے اس پانی کی صفائی کی جائے، اور اس میں ایسے مختلف مواد شامل کیے جائیں جو حکومت سے منظور شدہ ہوں، پھر اسے اچھی طرح فلٹر کر کے فروخت کیا جائے، تو کیا ایسا کرنا شرعًا جائز ہے؟ اور شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زمین سے پانی نکال کر، مختلف مشینوں کے ذریعے اسے صاف اور فلٹر کر کے، پھر مناسب ڈرموں یا بوتلوں میں بھر کر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اور اس میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں، بشرطیکہ شامل کیے جانے والے تمام اجزاء حکومتی اور شرعی اعتبار سے جائز اور محفوظ ہوں۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌بيع ‌الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي."

(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل السابع في بيع الماء والجمد، ج:3، ص:121، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101994

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں