
پانی کا فلٹر پلانٹ لگا کر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں پانی پلانے کی ترغیب تو اسلام نے دی ہے، اب مجھے اس کی وجہ سے شبہ ہو رہا ہے کہ یہ کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ویسے تو پانی ان اشیاء میں سے ہے جن کو اللہ پاک نے ہر ایک کے لیے مباح بنایا ہے،( اس کی خرید وفروخت منع ہے۔)یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اور اگر پانی اپنے پاس کسی چیز میں جمع کیا ہوا نہ ہو، بلکہ کنویں وغیرہ میں ہی ہو تو کنویں وغیرہ پر آکر پانی لینے والوں کوروکنا شرعاً جائز نہیں ۔
لیکن اگر کوئی شخص پانی کو برتن، مشکیزہ، ٹینک، کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے۔ اب اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، اس صورت میں از روئے شرع اس کی خرید و فروخت کی جاسکتی ہے؛ لہذا اگر آپ پانی کو فلٹر کرکے بوتلوں میں بھر کر فروخت کرتے ہیں، تو شرعاً یہ جائز ہے، بشرطیکہ حکومتی اجازت نامہ حاصل ہو اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت رکھی جائے۔
جیسا کہ جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے :
"عن ابی هریرة ان النبی صلی الله علیه وسلم قال: لا یمنع فضل الماء ."
ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زائد پانی کو نہ روکاجائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"إن صاحب البئرلایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته".
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملك الماء، ج: 5، ص: 67، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801100930
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن