
ایک شخص جو کہ پیدا کے پی کے میں ہوا ہے، بعد میں وہ شخص اپنی فیملی کے ساتھ کراچی شفٹ ہوگیا اور مستقل کراچی میں ہی آباد رہنے کی نیت رکھتا ہے، واضح رہے کے پی کے میں ان کی جائیداد ابھی بھی موجود ہے ،اب اگر وہ شخص15 دن سے کم دنوں کے لیے اپنی گاؤں جاتا ہے تو کیا وہ شخص مسافر شمار ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنے وطن اصلی سے بیوی ، بچے اور سامان وغیرہ لے کر دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور وہیں مستقل طور پر اہل وعیال کے ساتھ عمر گزارنے کی نیت کرلے ، اور پہلی جگہ پر دوبارہ منتقل ہونے کا ارادہ نہ ہو ، تو اس کا پہلا وطن اصلی ختم ہوجاتا ہے، اور دوسری جگہ اس کا وطن اصلی بن جاتی ہے،اور اگر پہلی جگہ پر بھی موسم کے لحاظ سے آکر رہنے کا ارادہ ہو یا وطن اصلی سے اہل وعیال کو تو دوسری جگہ منتقل کرلیا لیکن پہلے وطن سے بھی تعلق رکھا ہو، اس کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں ہے مثلاًاس کی زمینیں اور مکانات وغیرہ وہاں موجود ہیں اور کبھی وہاں بھی رہنے کا ارادہ ہے تو دونوں جگہیں اس کے وطن اصلی شمار ہوں گے جب وہاں جائے گا تو مقیم ہوگا اور جب یہاں آئے گا تب بھی مقیم ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے کے پی کے سے مستقل طور پر تعلق ختم کرکے اس کی وطنیت کو ختم نہیں کیا، بلکہ کراچی میں رہنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی نیت ہے کہ کے پی کے کا آبائی علاقہ بھی ہمارا وطن رہے گا تو وہ وہاں بھی مکمل نماز پڑھے گا، اگرچہ وہاں پندرہ دن سے کم کے لیے ہی کیوں نہ گیا ہو ، لیکن اگر اس نے یہ نیت کی ہے کہ اب کے پی کے ہمارا وطن اصلی نہیں رہا اور اہل وعیال سمیت کراچی ہجرت کرلی ہےاور آبائی علاقے میں رہنے کا بالکل ارادہ نہیں ہے،تو ایسی صورت میں اگر یہ پندرہ دن سے کم کے لیے آبائی علاقہ جائے گا تو مسافر ہوگا اور قصر نمازپڑھے گا ۔
الدر المختار میں ہے:
"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته۔
وفی الرد: (قوله أو تأهله)۔۔۔ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ. (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية۔"
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، 2/ 131، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102185
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن