
ہمارے علاقے کی مسجد میں ہرسال پندرھویں شعبان کی رات کومحفل حمدونعت کا پروگرام ہوتا ہے،اس میں مختلف علماء اور نعت خواں تشریف لاتے ہیں ،یہ پروگرام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت منعقد ہوتا ہے ،اور رات ساڑھے تین بجے تک جاری رہتا ہے،مسجد میں بڑے بڑے لاؤ اسپیکر لگاۓ جاتے ہیں ،آواز باہر بھی آتی ہے،اس طرح کا پروگرام شرعاً منعقد کرنا اور لوگوں کا اس میں شرکت کرنے کا کیا حکم ہے ۔
شب براءت کی مبارک رات سے متعلق احادیث میں جن اعمال کاتذکرہ ملتا ہے،وہ سب انفرادی اعمال ہے،اس رات اجتماعی عمل کا ذکراحادیث میں نہیں ملتا،لہذا صورت مسئولہ میں مساجد میں شب برائت کی مناسبت سےمسجد میں رات دیر تک نعتیہ محفل رکھنا بے اصل عمل ہے،جس سے اجتناب کرنا چاہیے،کیونکہ فقہائے کرام نےشب برائت کے اجتماع کو مکروہ قرار دیا ہے۔
مراقی الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"وليلة النصف من شعبان ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد."
(كتاب الصلاة، باب: فی النوافل،فصل فی تحية المسجد وصلاة الضحى وإحياء الليالي وغيرها،ص:151،ط:المكتبة العصرية)
فقط: واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102012
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن