بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ كلی والی ٹوپی کا حکم


سوال

پانچ کلی ٹوپی یعنی خانقاہی ٹوپی پہنا حدیث شریف اور سنت رسول سے ثابت ہے؟ 

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال جن کا اختیار کرنا بطورِ عادت تھا، ان کو ’’سننِ زوائد‘‘  اور ’’امورِ عادیہ‘‘  کہا جاتا ہے، مثلاً:  کپڑے پہننے کا طریقہ، کھانا کھانے کا طریقہ وغیرہ ،ٹوپی کا تعلق بھی امور عادیہ میں سے ہے اور یہ لباس کا حصہ ہے،احادیث مبارکہ میں حضورﷺسے متعدد قسم کی ٹوپیاں پہننا ثابت ہے،سر سے لگی ہوئی ٹوپی،ایسی ٹوپی جس سے کان چھپ جاتے،اورسر سے اٹھی ہوئی یعنی لمبی ٹوپی،اس لیے کسی خاص قسم کی ٹوپی کے استعمال پر اصرار اور اسی کو افضل کہنا درست نہیں،ہماری تلاش کے  مطابق ایک روایت میں ٹوپی کے ساتھ’’قلنسوة خماسية ‌طويلة‘‘کے الفاظ ہیں،لیکن اس کی نوعیت کا کہیں ذکر نہیں،تاہم موجودہ زمانہ میں پانچ کلی ٹوپی یعنی خانقاہی ٹوپی صلحاءکے لباس ميں سے ہےاور علماء و  صلحاء کا ایک طبقہ اسے پہنتاہے،لهذا پانچ كلي والي ٹوپي شريعت سے متضاد نہیں۔ 

أخلاق النبي لأبي الشيخ الأصبهاني میں ہے:

 "عن ابن عباس ، قال : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث قلانس : قلنسوة بيضاء مضربة ، وقلنسوة برد حبرة ، وقلنسوة ذات آذان ، يلبسها في السفر ، وربما وضعها بين يديه إذا صلى"

(‌‌ذكر قلنسوته صلى الله عليه وسلم ،ج :2، ص: 221، ط: دار المسلم للنشر والتوزيع)

مرقاۃ المصابیح میں ہے:

"(‌وإنما ‌ورثوا العلم) : لإظهار الإسلام ونشر الأحكام، أو بأحوال الظاهر والباطن على تباين أجناسه واختلاف أنواعه."

(کتاب العلم، ج:1، ص:297، ط:دار الفكر، بيروت)

کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

شریعت مقدسہ میں لباس کی کوئی خاص صورت اور وضع متعین نہیں ہےصرف چند چیزیں (مرد کے لیے ریشمی لباس،زریں لباس ،کسی کافر قوم کے مشابہ لباس ،اسبال ازار)منع ہیں اس کے بعد ہر لباس اور وضع مباح ہےآپ نے جو چیزیں تحریر فرمائیں ہیں ان میں وجہ کراہت یا تو ریشمی ہونا ہوتی ہے یا مشابہت بالنصاری ،ترکی ٹوپی میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں،اسی طرح بالوں کی ٹوپی بھی کسی کافر قوم کی ٹوپی نہیں ہےاس لیے یہ دونوں مباح ہیں اور ان دونوں میں نماز جائز ہے۔۔۔۔۔محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔

(کتاب الحظر و الاباحة، ج: 9، ص: 163، ط: دارالاشاعت)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

سوال (۱۳۱۵)اکثر علمائے دیوبند جس لمبی ٹوپی کو پہنتے ہیں وہ درست ہے یا نہیں؟ اس لمبی ٹوپی میں کسی قسم کی کراہت ہے یا نہیں؟ کیا یہ لمبی ٹوپی اور گول ٹوپی دونوں سنت ہونے میں برابر ہیں یا کچھ فرق ہے؟

الجواب حامداً و مصلاً.

دو پلیا ٹوپی بھی ہمارے دیار میں صلحاء کا لباس ہے، بعض اکا بر گول پہنتے ہیں ، بعض دو پلیا، کسی پرنکیر نہیں۔فقط واللہ اعلم بالصواب۔

(کتاب الحظر و الاباحة، باب اللباس، الفصل الثالث فی العمامة و القلنسوة، ج:19، ص:300، ط:دارالافتاءجامعه فاروقيه)

ایک اور سوال کے جواب میں ہے:

کمام کی دوسری تفسیر آستین کے ہے۔

قال الطيبي فيه : إن انتصاب القلنسوة من السنة بمعزل، كما يفعله الفسقة، قلت : والأن صار شعار المشايخ من اليمنة، إلى قوله : وهن البيض المضرية، ويلبس ذوات الأذان في الحرب، وكان ربما نزع قلنسوته، فجعلهاسترة بين يديه .

اس سے معلوم ہوا کہ ایسی ٹوپی پہننا بھی ثابت ہے، جس کو نماز کے لئے سترہ بنایا جائے ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔

حرره العبد محمود غفر له، دارالعلوم دیو بند ۔

(کتاب الحظر و الاباحة، باب اللباس، ج: 24، ص:361، ط: دارالافتاء جامعه فاروقيه)

مسند أبی حنیفہ میں ہے:

عن أبي هريرة قال: رأيت على رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌قلنسوة ‌خماسية ‌طويلة.

(باب العین، روایت عن عطاء بن ابی رباح، ص: 137، ط: مكتبة الكوثر)

لسان العرب میں ہے:

"والقلسوة والقلساة والقلنسوة والقلنسية والقلنساة والقلنيسة: من ملابس الرؤوس معروف."

(فصل القاف ج 1 ، ص ۱۸۱، ما دار صادر بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"«وعن أبي كبشة رضي الله عنه ‌قال: ‌كان ‌كمام ‌أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بطحا» . رواه الترمذي،

(وعن أبي كبشة) بفتح الكاف وسكون موحدة فمعجمة، قال المؤلف في فصل الصحابة: هو عمرو بن سعيد الأنصاري، نزل بالشام، روى عنه سالم بن أبي الجعد، ونعيم بن زياد (‌قال: ‌كان ‌كمام ‌أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم) : بكسر الكاف جمع كمة بالضم كقباب وقبة، وهي القلنسوة المدورة سميت بها لأنهاتغطي الرأس (بطحا) : بضم الوحدة فسكون المهملة جمع بطحاء أي كانت مبسوطة على رءوسهم لازقة غير مرتفعة عنها قيل: هي جمع كم بالضم كقفاف وقفة ; لأنهم قلما كانوا يلبسون القلنسوة ومعنى بطحا حينئذ أنها كانت عريضة واسعة، فهو جمع أبطح من قولهم للأرض المتسعة بطحاء، والمراد أنها ما كانت ضيقة رومية أو هندية، بل كان وسعها مقدار شبر كما سبق، قال الطيبي: فيه أن انتصاب القلنسوة من السنة بمعزل كما يفعله الفسقة. قلت: والآن صار شعار المشايخ من اليمن."

(كتاب الباس ، ج: 2، ص: 2773، ط دار الفكر)

سیر اعلام النبلاء میں ہے :

"قال عبد الرحمن بن محمد بن المغيرة رأيت أبا حنيفة شيخا يفتي الناس بمسجد الكوفة على رأسه قلسوة سوداء طويلة."

(ج: 2، ص: 363، ط: مؤسسة الرسالة)

الطبقات الکبری میں ہے:

"عن كيسان بن أبي عمر عن عيد بن الحارث بن بلال الفزاري قال: رأيت على علي قلنسوة بيضاء مضربة."

(ج ۳، ص ۲۸، ط: مكتبة الخانجي القاهرة)

الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم میں ہے:

"هناد بن سليمان القرشي روى عن أبيه أنه رأى على عثمان ابن عفان رضي الله عنه قلنسوة بيضاء مضربة مبطنة ليس فيها حشو ولها زر في حلقه."

( ج ۹، ص: ۱۱۹، ط: دار إحياء التراث)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں