
ایک شخص نے اپنی پالی ہوئی بکری کی قربانی کی نیت کی تھی، لیکن وہ بکری ابھی سات مہینہ کی ہے اور قربانی کے لائق عمر کو نہیں پہنچی۔
اب وہ شخص چاہتا ہے کہ اس بکری کو بیچ کر، اس کی قیمت میں مزیدکچھ رقم اور ملا کر ایک عمر رسیدہ اور قربانی کے لائق بکری خرید کر قربانی کرے۔ تو اس صورت میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ گھر میں پالے ہوئے جانور کے بارے میں یہ نیت کی کہ قربانی کے ایام میں اس جانور کی قربانی کرے گا تو اس نیت سے اس جانور کی قربانی لازم نہیں ہوگی، ایسے جانور کو بدلنا یا فروخت کرنا بھی جائز ہے،حاصل یہ ہے کہ: جس کی ملکیت میں پہلے ہی سے جانور ہو تو اس کی قربانی کی نیت کر لینے سے اس جانورکی قربانی لازم نہیں ہوتی۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ سات ماہ کی بکری فروخت کرکے مزید رقم ملاکر قربانی کے لائق بکرا خرید کر قربانی کرنا شرعاً جائز ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنيا أو فقيرا؛ لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر."
(كتاب التضحية،صفة التضحية،62/5، ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"فلو كانت في ملكه فنوى أن يضحي بها أو اشتراها ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك لا يجب، لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر."
(كتاب الأضحية،321/6، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102807
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن