
پاکستان کے قومی ترانہ میں جو لفظ ہے "سایہ خداۓ ذولجلال" میں نے کسی عالم دین سے سنا ہے یہ لفظ کفریہ لفظ ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ سایہ اردو اور فارسی زبان کا لفظ ہے، جو کہ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً: پرچھائیں، پرتو، حفاظت اور حمایت وغیرہ، لہذا سایہ کے لفظ سے موقع و محل کی مناسبت سے اس کا کوئی ایک معنی متعین کیا جائے گا، سایہ لفظ کا صرف ایک ہی معنی ہر موقع و محل کے لیے متعین کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ ایک حدیث مبارک میں بھی سایہ سے حمایت و حفاظت کا معنی مراد لیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:"سات طرح کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں اس دن جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا"، بعض محدثین اس حدیث کی تشریح کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ یہاں سایہ سے مراد اللہ تعالی کی حفاظت و حمایت ہے، تو اس اعتبار سے مذکورہ جملہ(سایہ خدائے ذوالجلال) میں بھی سایہ سے مراد حفاظت اور حمایت ہے۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے پاکستان کے قومی ترانہ کے الفاظ "سایہ خدائے ذو الجلال"کفریہ کلمات نہیں ہیں بلکہ دعائیہ کلمات ہیں، جن کا مطلب یہ ہے کہ یہ مملکت (پاکستان) ہمیشہ اللہ تعالی کی حفاظت میں رہے، لہذا اس جملہ کو کفریہ جملہ سمجھنا درست نہیں ہے۔
شرح النووی علی مسلم میں ہے:
"قال القاضي وقال بن دينار المراد بالظل هنا الكرامة والكنف والكف من المكاره في ذلك الموقف قال وليس المراد ظل الشمس قال القاضي وما قاله معلوم في اللسان يقال فلان في ظل فلان أي في كنفه وحمايته قال وهذا أولى الأقوال وتكون إضافته إلى العرش لأنه مكان التقريب والكرامة وإلا فالشمس وسائر العالم تحت العرش."
(کتاب الزکوۃ، باب فضل إخفاء الصدقة، ج: 7، ص: 120، ط: دار إحياء التراث العربي)
الكوكب الدراری میں ہے:
"قوله (في ظله) إضافة الظل إلى الله إضافة تشريف وكل ظل فهو لله وملكه وأما الظل الحقيقي فهو منزه عنه لأنه من خواص الأجسام أو ثمة محذوف أي ظل عرشه والمراد من لا ظل إلا ظله يوم القيامة إذا قام الناس لرب العالمين ودنت منهم الشمس واشتد عليهم حرها وأخذهم العرق ولا ظل لشئ هناك إلا للعرش وقيل المقصود من الظل هنا الكرامة والكنف من المكاره في ذلك الموقف يقال فلان في ظل فلان أي في كنفه وحمايته."
(كتاب الأذان، باب من جلس في المسجد ينتظر الصلوة، ج: 5، ص: 46، ط: دار إحياء التراث العربي)
فیروز اللغات میں ہے:
سایہ: پرچھائیں، چھاؤں، پرتو، پناہ، حفاظت، حمایت وغیرہ جمع: سائے، سایوں۔
(باب السین، فصل الف، ص: 816، ط: فیروز سنز)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101148
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن