بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستان سے عمرہ پر جاتے ہوئے احرام کہاں سے باندھنا چاہیے؟


سوال

پاکستان سے عمرہ پر جاتے ہوۓ احرام کہاں سے باندھیں؟

جواب

واضح رہے کہ آفاقی (یعنی میقات سے باہر رہنے والے) جب عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جائیں تو ان کے لیے پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر یا اس سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے، پاکستان سے ہوائی سفر کے ذریعے عمرہ یا حج کے لیے جانے والے عموماً جدہ پہنچنے سے پہلے میقاتِ قرن المنازل یا اس کی محاذات سے گزرتے ہیں، اس لیے جو شخص پاکستان سے براستہ جدہ جا رہا ہو اس کے لیے اس مقام سے گزرنے سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص پہلے مدینہ منورہ جائے اور وہاں سے مکہ مکرمہ عمرہ کے لیے روانہ ہو تو اس کے لیے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے میقاتِ ذوالحلیفہ (بیر علی) سے احرام باندھنا ہوگا، جو اہلِ مدینہ کی میقات ہے، اس صورت میں پاکستان سے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

حسب ِ سہولت میقات سے پہلے پہلے  جہاں سے احرام باندھنا چاہے باندھ سکتا ہے، مگر افضل و بہتر یہ ہے کہ  گھر میں پہلے غسل کرکے احرام کی چادریں باندھ لیں اور دونوں کاندھے اور سر  ڈھانپتے ہوۓ  دو رکعت نفل ادا کریں، سر کھول کر نیت وتلبیہ پڑھ لیں عمرہ کی نیت کرلیں،ورنہ اس وقت عمرہ کی نیت نہ کی جائے، جب جہاز پرواز کر جائے اور میقات آنے کے قریب ہو تو اس سے پہلے عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لیا جائے، اگر کسی نے میقات ہی پر احرام باندھا ہو تو وہیں عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"المواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة: لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل الشام جحفة ولأهل نجد قرن، ولأهل اليمن يلملم، وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها كذا في الهداية. فإن قدم الإحرام على هذه المواقيت جاز وهو الأفضل إذا أمن مواقعة المحظورات وإلا فالتأخير إلى الميقات أفضل كذا في الجوهرة النيرة. وكل واحد من هذه المواقيت وقت لأهلها ولمن مر بها من غير أهلها كذا في التبيين".

(كتاب المناسك، الباب الثاني في مواقيت الإحرام، ج:1، ص:221، ط: دارا لفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101608

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں