بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پاکستان سے حج پر جانے والا اگر مکہ میں مقیم ہوجائے تووہ عرفات میں قصر پڑھے گا یا مکمل نماز پڑھے گا؟


سوال

پاکستان سے حج پر جانے والا اگر مکہ میں مقیم ہو گیا تو عرفہ کے دن ظہر، عصر، مغرب اور عشاء قصر پڑھے گا یا پوری نماز؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں پاکستان سے حج پر جانے والااگر  کوئی شخص منی جانے سے پہلے   مکہ میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی وجہ سے  مقیم ہوجائے تو اس کے لیے عرفات اور مزدلفہ  میں پوری نماز پڑھنا ضروری ہے،قصر کرنا جائز نہیں ہے۔نیز عرفات کے میدان میں اپنے خیمہ میں ظہر وعصر میں جمع بین الصلاتین کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، البتہ اگر وہ امام حج کی اقتداء میں مسجد نمرہ میں نماز اداکرتاہے اورا مام حج اور حاجی دونوں مسافر ہوں تو دونوں جمع بین الصلاتین اور قصر کریں گے، البتہ امام مسافر ہو، مگر حاجی مقیم ہو، تو جمع بین الصلاتین تو دونوں کریں گے، تاہم مسافر مقتدی امام حج کے سلام پھیرنے کے بعد بقیہ دو رکعات بغیر تلاوت کے ادا کرے گا، پھر عصر کی نماز میں شامل ہوگا، اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد بقیہ دو رکعات بغیر قراءت کے مکمل کرے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها وبعد عوده من منى تصح الخ

(قوله فلو دخل إلخ) هو ضد مسألة دخول الحاج الشام فإنه يصير مقيما حكما وإن لم ينو الإقامة وهذا مسافر حكما وإن نوى الإقامة لعدم انقضاء سفره ما دام عازما على الخروج قبل خمسة عشر يوما أفاده الرحمتي."

(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، جلد 2، ص : 126، ط :ایچ ایم سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وذكر في كتاب المناسك أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوى الإقامة خمسة عشر يوما أو دخل قبل أيام العشر لكن بقي إلى يوم التروية أقل من خمسة عشر يوما ونوى الإقامة لا يصح؛ لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح."

(کتاب الصلوۃ، فصل بیان ما یصیر المسافر به مقیما، جلد 1، ص : 98، ط : ایچ ایم سعید)

 فتاوی شامی میں ہے:

"(و) بعد الخطبة (صلى بهم الظهر والعصر بأذان وإقامتين) وقراءة سرية، ولم يصل بينهما شيئا على المذهب ولا بعد أداء العصر في وقت الظهر.

 (وشرط) لصحة هذا الجمع الإمام الأعظم أو نائبه وإلا صلوا وحدانا....

(قوله الإمام الأعظم) أي الخليفة بحر، وقوله: أو نائبه أي ولو بعد موت الإمام فإنه يجمع نائبه أو صاحب شرطه لأن النواب لا ينعزلون بموت الخليفة بحر، وأطلق الإمام فشمل المقيم والمسافر لكن لو كان مقيما كإمام مكة صلى بهم صلاة المقيمين، ولا يجوز له القصر ولا للحجاج الاقتداء به قال الإمام الحلواني: كان الإمام النسفي يقول العجب من أهل الموقف يتابعون إمام مكة في القصر فأنى يستجاب لهم أو يرجى لهم الخير وصلاتهم غير جائزة."

(کتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص:504،505، ط: ایچ ایم سعید)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں