
ایک شخص زمین خریدتا ہے پیسے محفوظ کرنے کے لیے اور ساتھ میں ارادہ یہ ہے کہ اگر کہیں قیمت زیادہ ہوئی تو فروخت کر دے گا تو کیا اس صورت میں اس پر زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جو شخص رقم محفوظ کرنے کے لیے اور مستقبل میں بیچنے کی نیت سے پلاٹ خریدتا ہے وہ تجارتی پلاٹ کہلائے گا، اس پر زکات واجب ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(أو) في (عرض تجارة قيمته نصاب)".
(کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃ المال، ج:2، ص:298، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات.....إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب."
(کتاب الزکاۃ، الباب الثالث،الفصل الثانی فی العروض،179/1،ط:رشیدیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100013
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن