
کیا اگر کئی سالوں سے ایسے ہی پیسے دیں مستحق کو اور پھر جب زکات کا وقت آئے تو ان کو زکات میں شمار کیا جاسکتا ہے، جب کہ کئی سالوں کی زکات رہ رہی ہو؟
زکات کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے نیت ضروری ہے، یا تو رقم دیتے وقت دل میں زکات دینے کی نیت کرے، یا اپنے مال سے رقم الگ کرتے وقت یہ نیت کرے کہ یہ زکات کی رقم ہے، پھر چاہے مستحق کو دیتے وقت زکات کی نیت ہو یا نہ ہو، زکات ادا ہوجائے گی۔ اور اگر مستحق کو زکات کی نیت کے بغیر مال دے دیا اور وہ مال ابھی مستحق کے پاس موجود ہو اور دینے والا زکات کی نیت کرلے تو اس صورت میں بھی زکات کی نیت معتبر ہوجاتی ہے، اور مستحق نے جو مال خرچ کرلیا ہو تو پھر اس میں زکات کی نیت نہیں کی جاسکتی اور اس طرح زکات ادا نہیں ہوگی۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"و إذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، و إلا فلا، كذا في معراج الدراية و الزاهدي و البحر الرائق و العيني و شرح الهداية."
(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:171، ط:دار الفكر)
فقط و الله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101971
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن