
میری شادی کو تقریباً 11 سال ہوگئے ہیں، اولاد کی نعمت مجھے میسر نہیں ہے، اس سلسلے میں ایک فیملی سے بات چیت ہوئی ہے ، انہوں نے مجھے اپنی ہونے والی اولاد مبلغ دو لاکھ روپے کے بدلے دینے کی رضامندی ظاہر کی ہے، کیا میں ان سے پیسے دے کر بچہ گود لے سکتا ہوں؟ شریعت کے اس بارے میں کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے پیسے دے کر بچہ گود لینا جائز نہیں، شریعت میں کسی آزاد انسان کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے،البتہ اپنی خوشی سے ہونے والی اولاد کی ولادت کا خرچہ اگر آپ برداشت کرلیں تو کرسکتے ہیں اور بچہ گود لینے کی صورت میں ولدیت میں حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(بطل بيع ما ليس بمال) ... (والحر والبيع به) أي جعله ثمنا بإدخال الباء عليه؛ لأن ركن البيع مبادلة المال بالمال ولم يوجد."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 5/ 52، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن