بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پیسے دے کر بچہ گود لینے کا حکم


سوال

میری شادی کو تقریباً 11 سال ہوگئے ہیں،  اولاد کی نعمت مجھے میسر نہیں ہے، اس سلسلے میں ایک فیملی سے بات چیت ہوئی ہے ، انہوں نے مجھے اپنی ہونے والی اولاد مبلغ دو لاکھ روپے کے بدلے دینے کی رضامندی ظاہر کی ہے، کیا میں ان سے پیسے دے کر بچہ گود لے سکتا ہوں؟ شریعت کے اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے پیسے دے کر بچہ گود لینا جائز نہیں، شریعت میں کسی آزاد انسان کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے،البتہ اپنی خوشی سے ہونے والی اولاد کی ولادت کا خرچہ اگر آپ برداشت کرلیں تو کرسکتے ہیں  اور بچہ گود لینے کی صورت میں ولدیت میں حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(بطل بيع ما ليس بمال) ... (والحر والبيع به) أي جعله ثمنا بإدخال الباء عليه؛ لأن ركن البيع مبادلة المال بالمال ولم يوجد."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، 5/ 52، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101411

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں