بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رنگ کی کمپنیوں کا ڈبوں ممیں خفیہ انعامی ٹوکن رکھنا اور اس انعامی ٹوکن کا حکم


سوال

موجودہ پینٹ انڈسٹری میں ایک منظم طریقہ رائج ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے :

پینٹ تیار کرنے والی کمپنیاں اپنے پینٹ کے ڈبوں میں پینٹر ز کے لیے بھاری مالیت کے ٹوکن اور نقد انعامات رکھتی ہیں، جن کے بدلے پینٹر حضرات رنگ کی دکانوں سے نقدرقم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پینٹر ز گھروں کے مالکان ( صارفین) کی رائے پر اثر انداز ہو کر انہیں اس پینٹ کے استعمال پر آمادہ کرتے ہیں جس میں زیادہ مالیت کے ٹوکن یا انعامات نکلنے کا امکان ہو، چاہے وہ پینٹ معیار کے اعتبار سے کمزور ہی کیوں نہ ہو۔

بعض کمپنیاں ان ٹوکن یا نقد انعامات کی مالیت پینٹ کے ذبے پر ظاہر کر دیتی ہیں، جبکہ بعض کمپنیاں اس کو مخفی رکھتی ہیں، لیکن دونوں صورتوں میں عام گھریلو صارفین عموماً اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں کہ پینٹ کی قیمت میں ان ٹوکنوں اور انعامات کی رقم بھی شامل ہے۔ یوں صارف یہ سمجھتا ہے کہ وہ صرف پینٹ کی قیمت ادا کر رہا ہے، حالانکہ اضافی رقم بالواسطہ طور پر پینٹر زیا کمپنیوں کی جیب میں منتقل ہو جاتی ہے۔

اسی طرح بعض پینٹ ڈبوں میں ”لکی ٹوکن “ یا تحائف بھی رکھے جاتے ہیں جن کی مالیت ایک گرام سونے سے لے کر موٹر سائیکل ، عمرہ ٹکٹ یا نقد پچیس ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ اس کا عملی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پینٹرز صرف انہی برانڈز پر اصرار کرتے ہیں جن میں زیادہ قیمتی انعامات نکلنے کا امکان ہو ، اور اس تمام انتظام کی مالی ذمہ داری بالآخر صارف ہی برداشت کرتا ہے۔

مزید یہ کہ رنگ کے دکانداروں کو اس انتظام میں شامل رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے ٹوکن یا انعام کی مالیت کا تقریبا دس فیصد حصہ دکاندار کو دیا جاتا ہے، تا کہ وہ پینٹرز کو بغیر کسی رکاوٹ کے ان ٹوکنوں کے بدلے نقدر قم ادا کرتے رہیں۔ اس کے نتیجے میں دکاندار بھی مالک ( صارف) کے مفاد کے بجائے پینٹرز کی رائے کی تائید کرتے ہیں۔ اس پورے طریقہ کار کے نتیجے میں درج ذیل خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں:

1۔گھریلو صارفین رنگ کے علاوہ ان ٹوکنوں اور انعامات کی قیمت بھی ادا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے پینٹ بہت مہنگا ہو جاتا ہے جبکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف پینٹ کی قیمت ادا کر رہے ہیں اور رقم ان کی جیب سے نکل کر پینٹر زیار نگسازوں کی جیب میں منتقل ہو جاتی ہے۔

2۔ پینٹرز معیاری رنگ کی بجائے ٹوکن والی غیر معیاری رنگ کی تعریف کرتے ہیں اور انہی کے استعمال پر اصرار کرتے ہیں اور اس طرح گھر یلو صارفین کو نقصان پہنچتا ہے۔

3 ۔دکاندار اس تمام عمل میں مالک کی بجائے پینٹرز کی رائے کی تائید کرتے ہیں اور بدلے میں ٹوکن کی مالیت کا 10 فیصد حصہ کمپنی سے وصول کرتے ہیں۔

اس پورے نظام نے پینٹ انڈسٹری کو ایک غیر شفاف اور استحصالی ڈھانچے میں بدل دیا ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ کیا شریعت مطہرہ کی رو سے پینٹ کمپنیوں کا اس طرح ٹوکن اور نقد انعامات رکھنا، پینٹرز کا اس بنیاد پر مخصوص برانڈ پر اصرار کرنا، دکانداروں کا کمیشن وصول کرنا، اور صارفین سے لا علمی میں اضافی رقم وصول کرنا جائز ہے ؟

نوٹ: یوں تو بے شمار پراڈکٹس کے ساتھ انعامی سکیمیں آتی ہیں مگر پینٹ کا معاملہ ذرا مختلف اور غور طلب ہے۔

باقی تمام اشیاء میں انعامی سکیموں کا فائدہ ان اشیاء کے خریدار ہی کو ہوتا ہے جبکہ پینٹ میں رقم مالک خرچ کرتا ہے اور فائدہ پینٹر حضرات کو ہوتا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں پینٹ تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے پینٹ کے ڈبوں میں ٹوکن، نقد انعامات اور قیمتی تحائف رکھنے، اور اس کے ذریعے پینٹرز اور دکانداروں کو مخصوص برانڈ کی طرف مائل کرنے کا جو طریقہ رائج کیا گیا ہے ،  اس میں متعدد  خرابیاں پائی جاتی ہیں،مثلا

1۔ پینٹ کمپنیوں کی جانب سے ٹوکن اور انعامات کی لاگت کو پینٹ کی قیمت میں شامل کر دینا، جبکہ عام صارف عام طور پر اس حقیقت سے ناواقف رہتا ہے کہ وہ پینٹ کے ساتھ ساتھ ان اسکیموں کی قیمت بھی ادا کر رہا ہے، شریعت میں خرید و فروخت کے معاملات میں ایسی کسی بات کو چھپانا جس کا اثر قیمت یا خرید کے فیصلے پر پڑتا ہو ، جائز نہیں۔

2۔ پینٹر زشرعا اجیر (مزدور) کی حیثیت رکھتا ہے، اور اجیر پر لازم ہے کہ وہ مالک کے مفاد کی حفاظت کرےلیکن   پینٹر ز معیار کے بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دینے لگتے ہیں، اور صارف کو اس پینٹ کے استعمال پر آمادہ کرتے ہیں جس میں زیادہ ٹوکن یا انعام نکلنے کا امکان ہو ، چاہے وہ معیار کے اعتبار سے کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طریقہ امانت اور خیر خواہی کے اصول کے خلاف ہے ، اور صارف کے مالی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

3۔ پینٹ کمپنیوں کا پینٹرز اور دکانداروں کو مالی ترغیبات دے کر اس نظام کا حصہ بنانا، بالواسطہ طور پر ایک ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں صارف تنہا اور بے خبر رہ جاتا ہے، جبکہ دیگر تمام فریق اس کے خرچ پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شریعت کی رو سے یہ صورت ظلم اور ناحق مال خوری کے زمرے میں آتا ہے۔ 

4۔ اس پورے نظام کا ایک عملی اثر یہ بھی ہے کہ مارکیٹ میں پینٹ کی قیمتیں بلا وجہ بڑھ جاتی ہیں. مہنگائی پیدا ہوتی ہے ، اور اعتماد کی فضا ختم ہو جاتی ہے ، جو شریعت کے معاشی مزاج کے خلاف ہے۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پینٹ تیار کرنے والی کمپنیاں اور رنگ ساز ادارے اس پورے نظام کی بنیاد اور محرک ہیں۔ شرعا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے نظام کو درست کریں اور پینٹ کے ڈبوں میں کسی قسم کے خفیہ ٹوکن یا انعامات نہ رکھے جائیں ، پینٹ کی قیمت صرف حقیقی لاگت ، معیار اور جائز منافع کی بنیاد پر مقرر کی جائے، پینٹر ز اور دکانداروں کو دی جانے والی خفیہ مالی ترغیبات ختم کی جائیں۔

اگر کوئی تشہیری اسکیم ہو تو وہ صارف کے لیے واضح ہو ، قیمت سے الگ ہو ، اور دھوکے سے مکمل طور پر پاک ہو ، اس میں کمپنیوں کی دنیاوی ساکھ ، اعتماد اور آخرت کی ذمہ داری کی ادائیگی ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا) [النساء: 58]

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا) [النساء: 29]

صحيح البخاری ميں هے:

''عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.''

(كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، رقم الحديث: 33، ج: 1، ص: 16، ط: دار طوق النجاة)

سنن الترمذی میں ہے:

''عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا».''

(أبواب البيوع، باب ما جاء في كراهية العش في البيوع، رقم الحديث: 1315، ج: 2، س: 597،ط: دار الغرب الإسلامي)

موطأ امام مالك  ميں هے:

..عن سعيد بن المسيب، أن عمر بن الخطاب مر بحاطب بن أبي بلتعة وهو يبيع زبيبا له بالسوق، فقال له عمر بن الخطاب: «إما أن تزيد في السعر، وإما أن ترفع من سوقنا».''

(كتاب البيوع، باب الحكرة والتربص، رقم الحديث : 57، ج: 2، ص: 651، ط: دار إحياء التراث العربي)

مصنف ابن ابي شيبه  ميں هے:

''حدثنا حفص عن أشعث، عن الحكم، عن إبراهيم، قال : كل قرض جر منفعة، فهو ربا.''

(كتاب البيوع، رقم الحديث: 20690، ج: 2، ص: 651،  ط: دار إحياء التراث العربي)

بدائع الصنائع میں ہے: 

''ويكره الاحتكار والكلام في الاحتكار في موضعين أحدهما في تفسير الاحتكار وما يصير به الشخص محتكرا، والثاني في بيان حكم الاحتكار.

(أما) الأول فهو أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع عن بيعه وذلك يضر بالناس، وكذلك لو اشتراه من مكان قريب يحمل طعامه إلى المصر وذلك المصر صغير، وهذا يضر به يكون محتكرا، وإن كان مصرا كبيرا لا يضر به لا يكون محتكرا ولو جلب إلى مصر طعاما من مكان بعيد وحبسه، لا يكون احتكارا۔''

(كتاب الاستحسان، ج: 5، ص: 129، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100652

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں