
حج میں سہولیات اور رقم کے لحاظ سے مختلف پیکجز ہوتے ہیں، بہت اچھے پیکج میں قیام و طعام کی بہت سہولیات ہوتی ہیں ،پَر اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، اسی طرح بعض حضرات گاڑیوں میں بیٹھ کر رمی کرتے ہیں، زید کا موقف ہے کہ جو لوگ بہت سہولیات والے پیکجز لیتے ہیں ، یہ اچھا نہیں ہے کیونکہ حج تو ہے ہی مشقت، جب کہ یہ لوگ اس پیکج کی وجہ سے حج میں مشقت میں نہیں پڑتے ،اور عمرو کا موقف ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو وسعت دی ہو اور وہ اپنی سہولیات اور راحت کے لحاظ سےحج کرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر مشقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پھر تو پیدل حج کے لیے جانے میں سب سے زیادہ مشقت ہے، نیز پہلے لوگ بحری جہازوں میں جاتے تھے اس میں بھی بہت مشقت ہوتی تھی، اب لوگ جب ہوائی جہاز میں حج کے لئے جاتے ہیں تو اس میں بھی تو اب مشقت کم ہو گئی ہے۔ 2024ء کے حج کے لئے 4710 لوگ سمندری راستے سے گئے ، 59273 کے قریب لوگ بری راستوں کے ذریعے گئے ،جب کہ 1483312 کے قریب لوگ ہوائی راستوں کے ذریعے گئے۔
1۔ زید اور عمرو میں کس کا موقف درست ہے ؟
2۔ سفرحج کے لیے پیدل یا سوار ی پر جانے میں کون سا افضل ہے یا دونوں برابرہیں؟ ان میں مسنون عمل کون سا ہے؟
3۔ ارکانِ حج پیدل سرانجام دینا افضل ہے یا سواری کے ذریعے سرانجام دینا؟ ان میں مسنون عمل کون سا ہے؟
1۔واضح رہے کہ ہر مشقت کا تحمل کرنا زیادتی اجر کا سبب ہوتا ہے بہ شرط یہ کہ کسی دوسری دینی مصلحت یا صحت کے خلاف نہ ہو،لہذا صورتِ مسئولہ میں زیدکا موقف اس بناء پر افضل معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد باقی ارکانِ حج پیدل ہوکر ادا کیے جائیں ،البتہ اگر طوافِ زیارت اور سعی کےعلاوہ دیگر ارکان سوار ہو کر ادا کیے گئے،تب بھی حج اد اہو جاۓ گا،اور عمرو کا موقف اس بناء پر صحیح ہے کہ سہولیات کے باوجود پیدل حج کے لیے جانا جس میں دینی(عبادتوں میں خلل کا آنا) اور جسمانی نقصان ہے ،مناسب نہیں۔
2۔صورتِ مسئولہ میں حج کےلیےپیدل جانا سنت نہیں ،بل کہ حضور ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ،ارشاد نبوی ہے کہ جس نے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالا ،اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو مشقت میں ڈال دے گا۔
3۔آفاقی شخص کے لیے مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد مکہ سے باقی اَرکانِ حج ادا کرنا اور اس کے لیے پیدل سفر کرنا فضیلت کا باعث ہےاور ہر چہ حضور ﷺ سے بعض مناسک (رمی جمار ،طواف ،سعی وغیرہ)سوار ہوکر ادا کرنا منقول ہے،وہ اس وجہ سےکہ لوگ حضور ﷺ کو دیکھ کر ان سے مناسکِ حج سیکھ سکیں ۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما شدید بیمار ہو گئے، انہوں نے اپنی اولاد کو بلایا اور ان سب کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: جو مکہ سے پیدل حج کرے یہاں تک کہ مکہ واپس لوٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھتے ہیں، اور ہر نیکی حرم کی نیکیوں کے برابر ہے۔ کہا گیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ہر ایک نیکی کے بدلہ ایک لاکھ نیکی ہے۔(گویا ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں ہیں)، نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما پیدل حج نہ کرنے پر بہت افسوس کا اظہار بھی کرتے تھے، اس کے علاوہ متعدد صحابہ کرام سےاس طرح پیدل حج کرنا منقول ہے، لہذا اگر کوئی عذر نہ ہو ، استطاعت ہو، اور پیدل سفر سے حج کے باقی مناسک متاثر نہ ہوں تو مکہ مکرمہ پہنچ کر یہ فضیلت حاصل کرنی چاہیے۔
نیز صحت مند شخص کے لیے طواف میں پیدل چلنا واجب ہے، اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے پیدل چلنے کو ترک کر کے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، مثلاً وہیل چیئر پر طواف کرتا ہے تو اس شخص پر اس طواف کا اعادہ اور لوٹانا ضروری ہو گا، اگر اعادہ نہیں کرتا تو اس پر دم دینا لازم ہو گا، اسی طرح سعی میں بھی پیدل چلنا واجب ہے، اگر کوئی شخص بغیر کسی عذر کے وہیل چیئر پر سعی کرے گا تو اس پر بھی دم لازم ہو گا۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
وظاهر الحديث من قوله مشى وما قبله أنه لم يسع راكبا، وهو يفيد الوجوب حيث لا عذر لقوله عليه الصلاة والسلام " خذوا عني مناسككم " وأما ركوبه عليه الصلاة والسلام كما في خبر مسلم أن ابن عباس قيل له: ( إن قومك يزعمون أن الركوب في السعي سنة، فقال: صدقوا وكذبوا، إن محمدا كثر عليه الناس، يقولون هذا محمد هذا محمد حتى خرج العواتق من البيوت، وكان لا يضرب الناس بين يديه، فلما كثروا عليه ركب، والمشي والسعي أفضل ."
(كتاب المناسك ،باب حجة قصة الوداع، 1768/5،ط:دار الفكر بيروت)
وفيه ايضاً:
"وكأن أبا يوسف يحمل ما روي من ركوبه عليه الصلاة والسلام في رمي الجمار كلها على أنه ليظهر فعله فيقتدى به، ويسأل، ويحفظ عنه المناسك، كما ذكر في طوافه راكبا في الظهيرية أطلق استحباب المشي. قال: يستحب المشي إلى الجمار، وإن ركب إليها فلا بأس به، والمشي أفضل، وتظهر أولويته لأنا إذا حملنا ركوبه عليه الصلاة والسلام على ما قلنا يبقى كونه مؤديا عبادة، وأداؤها ماشيا أقرب إلى التواضع، والخشوع، وخصوصا في هذا الزمان، فإن عامة المسلمين مشاة في جميع الرمي، فلا يأمن من الأذى بالركوب منهم بالزحمة."
(کتاب المناسک ، باب رمي الجمار ،1814/5،ط:دار الفكر بيروت)
وفيه ايضا:
"( ومن شاق )۔۔فالمعنى أن من شق على نفسه بأن يكلفها فوق طاقتها، أو شق على غيره بأن حمله فوق استطاعته۔۔شاق الله (" عليه يوم القيامة) ."
(كتاب الرقاق، باب الرياء و السمعة، 3338/8، ط:دار الفکر بیروت)
المستدرك على الصحيحين للحاكم :
" عن زاذان، قال: مرض ابن عباس مرضاً شديداً، فدعا ولده فجمعهم فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من حج من مكة ماشياً حتى يرجع إلى مكة كتب الله له بكل خطوة سبع مائة حسنة، كل حسنة مثل حسنات الحرم، قيل: وما حسنات الحرم؟ قال: بكل حسنة مائة ألف حسنة. هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه".
(كتاب المناسك، 631/1، ط:دار الکتب العلمیة)
سنن ترمذی میں ہے :
"عن أنس قال: نذرت امرأة أن تمشي إلى بيت الله، فسئل نبي الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك؟ فقال: إن الله لغني عن مشيها، مروها فلتركب."
"حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ وہ بیت اللہ تک پیدل سفر کرے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے اسے کہو کہ وہ سوار ہو کر جائے۔"
( باب ما جاء فيمن يحلف بالمشي و لايستطيع،196/3، ط: دار الغرب الاسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144602101830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن