
پہاڑوں ،ا ور جنگلات میں درختوں پر جو پھل اگتے ہیں، جیسے اخروٹ، جامن، چلغوزہ، زیتون وغیرہ، جنہیں لوگ جمع اور ذخیرہ کرتےہیں، اوران پھلوں کی باقاعدہ خرید و فروخت بھی کرتے ہیں، کیا ان پھلوں پر عشر واجب ہے؟
اور اگر بائع نے عشر ادا نہیں کیا تو کیا مشتری پر عشر لازم ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں پہاڑوں اور جنگلات کے درختوں سےجو شخص پھل اور میوہ جات حاصل ہوں، ان میں بھی عشر واجب ہے،اب اگر وہ شخص جس نے مذکورہ پھلوں کو پختگی سے پہلےآگے بیچ دیا تو اس صورت میں مشتری پرعشر واجب ہوگا، اور اگر پختگی کے بعد بیچ دیا تو عشر بائع پر واجب ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وكذا) يجب العشر (في ثمرة جبل أو مفازة إن حماه الإمام) لأنه مال مقصود لا إن لم يحمه لأنه كالصيد.
(قوله: في ثمرة جبل) يدخل فيه القطن؛ لأن الثمر اسم لشيء متفرع من أصل يصلح للأكل واللباس كما في الكرماني وفي القاموس أنه اسم لحمل الشجر والمشهور ما في المفردات أنه اسم لكل ما يستطعم من أحمال الشجر ويجب العشر، ولو كان الشجر غير مملوك ولم يعالجه أحد وخرج ثمرة شجر في دار رجل، ولو بستانا في داره؛ لأنه تبع للدار كذا في الخانية ط عن القهستاني (قوله: إن حماه الإمام) الضمير عائد إلى المذكور وهو العسل والثمرة والظاهر أن المراد الحماية من أهل الحرب والبغاة وقطاع الطريق لا عن كل أحد فإن ثمر الجبال مباح لا يجوز منع المسلمين عنه وقال أبو يوسف لا شيء فيما يوجد في الجبال؛ لأن الأرض ليست مملوكة ولهما أن المقصود من ملكها النماء وقد حصل. اهـ.
ح (قوله: لأنه مال مقصود) أي مقصود للإمام بالحفظ اهـ ط أو مقصود بالأخذ فلذا تشترط حمايته حتى يجب فيه العشر؛ لأن الجباية بالحماية فهو علة لاشتراط الجباية أو من جنس ما يقصد به استغلال الأرض فهو علة للوجوب تأمل."
(كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:325، ط: سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وما يجمع من ثمار الأشجار التي ليست بمملوكة كأشجار الجبال يجب فيها العشر كذا في الظهيرية."
(كتاب الزكاة،الباب السادس في زكاة الزرع والثمار، ج:1، ص:186، ط: رشیدیة)
الدر المختار میں ہے:
"ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع."
(كتاب الزكاة، باب العشر، ج:2، ص:333، ط: سعید)
فتاویٰ فریدیہ میں ہے:
"پہاڑ دو قسم کے ہوتے ہیں مملوک اور غیر مملوک اور یہ تعین مقامی لوگ کرسکتے ہیں، پس مملوک پہاڑ کے درخت اور میوہ جات بھی مملوک ہوتے ہیں ان کی خرید و فروخت درست ہےاور قواعد کی رو سے ان درختوں میں عشر واجب نہیں ہے ہاں میوہ جات میں واجب ہوگا، اور جب بیع و شراء میوہ جات کی پختگی سے قبل ہوا ہو تو عشر مشتری پر واجب ہوگا، ورنہ بائع پر واجب ہےاور غیر مملوک پہاڑ کے درخت اور میوہ جات اس شخص کے مملوک ہوں گے جس نے ان کو (کٹائی وغیرہ) سے حاصل کیے ہوں،اور عشر میوہ جات میں صرف قابض پر واجب ہوتا ہے خواہ بائع ہو یا مشتری۔
(کتاب الزکوٰۃ، باب زکوٰۃ الزروع و الثمار، ج:3، ص:462، ط:دار العلوم صدیقیہ زروبی، ضلع صوابی پاکستان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101803
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن