
رائیونڈ سے کبھی کبھار تبلیغی جماعت کی تشکیل پہاڑی علاقوں میں کی جاتی ہے، جو 40 دن کے لیے ہوتی ہے۔ وہاں کچھ گھر ایک پہاڑی کے اوپر ہوتے ہیں اور کچھ دوسری پہاڑی پر۔
سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ جماعت 40 دن کے دوران نماز پوری پڑھے گی یا قصر کرے گی؟
واضح رہے کہ اگرجماعت کی تشکیل کسی شہر یا بڑے گاؤں، یا بستی میں 15 دن یا اس سے زائد کی ہو اور وہیں کی کئی مساجد میں جانا ہو تو اس شہر/بستی میں وہ جماعت مقیم کہلائے گی اور پوری نماز پڑھیں گے۔ اور اگر کئی بستیوں میں تشکیل ہو اور ہر تین دن بعد یا کچھ دن بعد بستی تبدیل کرکے دوسری بستی یا گاؤں میں جانا پڑتا ہو جس کا نام وغیرہ بھی الگ ہو اور مقامی حضرات کے ہاں بھی وہ بستی بالکل علیحدہ شمار ہوتی ہے تو اس صورت میں چوں کہ جماعت کی اقامت ایک جگہ پر 15 دن کی نہیں ہے؛ اس لیے جماعت کے افراد مسافر کہلائیں گے اور قصر نماز پڑھیں گے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر پہاڑوں پر موجود گھر ایک ہی گاؤں شمار ہوتے ہیں تو وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرنے کی صورت میں جماعت مقیم ہوگی۔
اور اگر ہر پہاڑ پر موجود گھر دوسرے پہاڑ کے گھروں کے مقابلے میں الگ گاؤں شمار ہوتے ہیں ا الگ بستی شمار ہوتی ہے ، اسے علیحدہ نام دیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں میں جب کسی ایک گاؤں میں قیام پندرہ دن کا نہ ہو تو قصر نماز ادا کی جائے گی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما، ألا ترى أنه لو خرج إليه المسافر يقصر فلم يوجد الشرط وهو نية الإقامة في موضع واحد خمسة عشر يوما."
(كتاب الصلاة، فصل ما يصير المسافر به مقيما،ج:1ص:98، ط: رشيدية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703102099
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن