
میری سوتیلی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، اور میرے والد صاحب کا بھی پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا۔ مرحومہ کے پسماندگان میں تین سوتیلے بیٹے اور تین سوتیلی بیٹیاں ہیں۔ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائی سب وفات پا چکے ہیں، البتہ ایک بھتیجا اور ایک بھتیجی زندہ ہیں۔ میری سوتیلی والدہ کے نام پر ایک مکان ہے، جس میں وہ رہائش پذیر تھیں۔ یہ مکان پگڑی کا ہے، اور انہیں ہمارے رشتہ داروں نے خرید کر دیا تھا۔ پگڑی کی رسید مرحومہ کے نام پر ہے۔ مزید یہ کہ مرحومہ کی ملکیت میں گھریلو سامان اور کچھ نقدی بھی موجود ہے۔
مذکورہ صورت میں وراثت کس طریقے سے تقسیم ہوگی؟
واضح رہے کہ مروجہ پگڑی کا معاملہ شرعاً درست نہیں ہے، اس لیے کہ پگڑی نہ تو مکمل خرید وفروخت کا معاملہ ہے، اور نہ ہی مکمل اجارہ(کرایہ داری) ہے، بلکہ دونوں کے درمیان کا ایک ملا جلامعاملہ ہے، پگڑی پر لیا گیا مکان بدستور مالک کی ملکیت میں برقرار رہتا ہے،لہذا پگڑی کا لین دین شرعاً جائز نہیں ہے۔ پگڑی کے مکان کو فروخت کرنے کا تو کوئی جواز ہی نہیں، البتہ اگر اسے کسی اور کو پگڑی پر دے دیا جائے یا مالکِ مکان کو واپس کر دیا جائے، تو اس وقت جو رقم ملتی ہے، اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر اس شخص نے خود پگڑی کے مکان میں کوئی کام کروایا ہو، مثلاً لکڑی کا کام، ٹائلیں لگوائی ہوں یا پنکھا، بتی وغیرہ نصب کروائی ہو، یا دیگر تعمیراتی کام کروائے ہوں، تو ایسی صورت میں وہ شخص پگڑی کی مد میں دی گئی اصل رقم وصول کرنے کے علاوہ، مکان میں کرائے گئے کام کی مد میں اضافی رقم بھی مالک سے یا دوسرے کرایہ دار سے وصول کر سکتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی سوتیلی والدہ نے اس مکان میں کوئی اضافی کام کروایا ہو تو ورثاء کے لیے اسے کسی اور کو دیتے وقت اس کے عوض اضافی رقم لینا جائز ہوگا، اور اس صورت میں حاصل ہونے والی پوری رقم مرحومہ کی وراثت میں تقسیم ہوگی۔ نیز اگر کوئی زائد کام نہیں کروایا گیا تو اضافی رقم لینا جائز نہیں ہوگا، بلکہ صرف وہی اصل رقم لی جا سکتی ہے جو پگڑی پر لیتے وقت مالکِ مکان نے وصول کی تھی۔ بہرصورت مذکورہ تفصیل کے مطابق حاصل ہونے والی جائز رقم شرعی ضابطۂ وراثت کے مطابق تقسیم ہوگی۔
مرحومہ کے کل ترکہ کی شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ(اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے بطورِ قرض ادا کیا ہو کو) نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کےذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگرمرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ میں سے پورا کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ مرحومہ کے اکلوتے بھتیجے کو ملے گا، جب کہ مرحومہ کی بھتیجی اور سوتیلی اولاد کا مرحومہ کی میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها."
(کتاب البيوع، مطلب: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة ، ج:4، ص:518، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101865
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن