بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پاگل کتے کو زہریلی دوا کے ذریعے مارنا


سوال

پاگل ( باؤلے ) کتے کو مارنے پر حکومت نے پابندی لگائی ہے اور اس کے علاج کی تاکید کرتی ہے، حالاں کہ اس کا علاج ممکن نہیں ، اوروہ ضرر رساں ہوتے ہیں اور لوگوں کو کاٹتے رہتے ہیں، تو کیا ایسے کتے کو زہر دے کر مار نا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کتا پاگل ( باؤلہ ) ہوگیا ہو،وہ ضرر رساں ہو  اور لوگوں کو کاٹتا ہو، تو حفاظتِ جان کی خاطر انہیں زہر وغیرہ دے کر مارنا شرعاً جائز ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

" عن نافع قال عبد الله سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "خمس من الدواب لا جناح علي من قتلهن في قتلهن:الغراب والحدأة والعقرب والفأرة والكلب العقور."

(كتاب الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم، ج:1، ص: 382، ط: قديمي كتب خانه)

اکمال المعلم شرح صحیح مسلم میں ہے:

"وقيل: بل المراد بتعيين هذه الخمسة التنبيه على ما شابهها في الأذى، وقاسوا سائر السباع على الكلب العقور، وسائر ما يتصدى للاقتراس من السباع، وعلى الحدأة والغراب ما في معناهما، وإنما خص لقربهما من الناس، ولو وجد ذلك من الرخم والسنور لكانت مثلها، وكذلك نبه بالفأرة على ما ضرره مثلها وأشذ منها كالوزغ، وكذلك نبه بالعقرب على الزنبور، وبالحية والأفعى على أشباهها من ذوات السموم والمهلكات."

( كتاب الحج، باب ما يندب للمحرم وغيره قتله من الدواب في الحل والحرم، ج:4، ص:108، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قرية فيها كلاب كثيرة ولأهل القرية منها ضرر يؤمر أرباب الكلاب أن يقتلوا الكلاب فإن أبوا رفع الأمر إلى القاضي حتى يلزمهم ذلك كذا في محيط السرخسي." 

( كتاب الكراهية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات،ج:5، ص: 360، ط: دار الفكر)

فتادی شامی میں ہے :

"( وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة) تضر ( ويذبحها ) أي الهرة ( ذبحًا ) ولا يضر بها؛ لأنه لا يفيد، ولا يحرقها وفي المبتغي: يكره إحراق جراد وقمل وعقرب قوله: وهرة تضر كما إذا كانت تأكل الحمام والدجاج زيلعي (قوله ويذبحها الظاهر أن الكلب مثلها تأمل (قوله يكره إحراق جراد) أي تحريما ومثل القمل البرغوث ومثل العقرب الحية."

( مسائل شتی، ج: 6،ص: 752 ، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں