بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پڑوسی کے پالتو تیتر کو چیخنے اور چلانے کی وجہ سے زہر دے کر مارنا


سوال

پڑوسیوں کے گھر میں تیتر ہے جو ایسا پرندہ ہے، جو بہت زیادہ چیختا اور چلاتا ہے، جس کی وجہ سے پریشانی لاحق ہوتی ہے، پڑوسی سے بات بھی کی ہے لیکن اُس نے کہا کہ مجھے تو اچھا لگتا ہے، اور اُس نے تیتر گھر سے ختم نہیں کیے۔

تو مذکورہ صورتِ حال کے پیش نظر میں اُس تیتر کو زہر وغیرہ دے کر یا کسی اور طریقے سے مار سکتا ہوں؟

جواب

صورت مسئولہ میں پڑوسی کے پالتو پرندے”تیتر “ کو فقط اُس کے چیخنے چلانے کی وجہ سے زہر وغیرہ دے کر مارنا شرعاً جائز نہیں ہے،اگر مارے گا تو گناہ بھی ہو گا اور ضمان بھی لازم آئے گا۔ البتہ اگر واقعۃً تیتر کی تیز آواز پریشانی کا باعث بن رہی ہے تو پڑوسی اُس کا متبادل حل تلاش کرے، اور اُسے اپنے گھر میں ایسی جگہ رکھے جہاں سے اُس کی آواز دوسروں کے لیے اذیت کا باعث نہ بنے۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"ثم اعلم أن للإنسان أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ما شاء من التصرفات ما لم يضر بغيره ضررا ظاهرا فيجوز له أن يتخذ في داره حماما؛ لأن ذلك لا يضر بالجيران وما فيه من النداوة يمكن التحرز عنه بأن يبني بينه وبين جاره حائطا، وعن أبي يوسف - رحمه الله - أن الجيران إذا ما تأذوا من دخانه فلهم منعه إلا أن يكون دخان الحمام مثل دخانهم، ولو اتخذ داره حظيرة غنم والجيران يتأذون من نتن السرقين ليس لهم في الحكم منعه."

(كتاب القضاء،باب مسائل شتى، ج:4،ص:196، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

مجمع الضمانات میں ہے:

"ولو قتل فاختة أو حمامة تفرقوا فعليه قيمتها مقرقرة."

(ص:147،الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فتح الباری میں ہے:

"وقد أخرج مسلم حديث أبي هريرة من طريق الأعمش عن أبي صالح بلفظ فليحسن إلى جاره وقد ورد تفسير الإكرام والإحسان للجار وترك أذاه في عدة أحاديث أخرجها الطبراني من حديث بهز بن حكيم عن أبيه عن جده والخرائطي في مكارم الأخلاق من حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده وأبو الشيخ في كتاب التوبيخ من حديث معاذ بن جبل قالوا يا رسول الله ما حق الجار على الجار قال إن استقرضك أقرضته وإن استعانك أعنته وإن مرض عدته وإن احتاج أعطيته وإن افتقر عدت عليه وإن أصابه خير هنيته وإن أصابته مصيبة عزيته وإذا مات اتبعت جنازته ولا تستطيل عليه بالبناء فتحجب عنه الريح إلا بإذنه ولا تؤذيه ‌بريح ‌قدرك إلا أن تغرف له وإن اشتريت فاكهة فأهد له وإن لم تفعل فأدخلها سرا ولا تخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده وألفاظهم متقاربة والسياق أكثره لعمرو بن شعيب وفي حديث بهز بن حكيم وإن أعوز سترته وأسانيدهم واهية لكن اختلاف مخارجها يشعر بأن للحديث أصلا ثم الأمر بالإكرام يختلف باختلاف الأشخاص والأحوال فقد يكون فرض عين وقد يكون فرض كفاية وقد يكون مستحبا ويجمع الجميع أنه من مكارم الأخلاق."

(ج:10، س:446، ط:دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100861

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں