بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونے پر زکات کا حکم


سوال

زید کے پاس پانچ سے  ساڑھے پانچ تولہ سونا ہے، اس  کے علاوہ زید کے پاس نہ نقدی ہے اور نہ چاندی اور نہ کوئی اور مالیت ہے۔ کیاموجود ہ سونے پر زکات دینا زید پر واجب ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر زید کے پاس پانچ یا ساڑھے پانچ تولہ سونے کے ساتھ نہ ہی نقدی ہے، نہ مالِ  تجارت ہے اور  نہ ہی چاندی تو اس صورت میں اس پر زکات  واجب نہ ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144211200126

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں