
والد صاحب کا انتقال ہوا ورثاء میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، والدین اور بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوچکاتھا،ترکہ میں دو مکان ہیں ایک کی قیمت 30 لاکھ اور دوسرے کی قیمت 17 لاکھ روپے ہے،اب ترکہ بچے بچیوں میں کس طرح تقسیم ہوگا، ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟
صورت مسئولہ میں والد مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کےبعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو، تو اس کو ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو ایک تہائی ترکہ سےپوراکرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو11 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصہ ہرایک بیٹے کواور 1 حصہ اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت: 11
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 |
یعنی والد مرحوم کے ترکہ کا 18.18فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 9.09 فیصد مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔
اور مرحوم کے ترکہ کے دونوں مکانوں کی موجودہ قیمت47 لاکھ روپے میں سے 854,545.45 روپے ہر ایک بیٹے کو ،اور 427,272.72 روپے اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101514
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن