بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان میراث کی تقسیم


سوال

والد صاحب کا انتقال ہوا ورثاء میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے، والدین اور بیوی کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوچکاتھا،ترکہ میں دو مکان ہیں  ایک کی قیمت 30 لاکھ اور دوسرے کی قیمت 17 لاکھ روپے ہے،اب ترکہ بچے بچیوں میں کس طرح تقسیم ہوگا، ہر ایک کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں والد  مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کےبعد، اگر  مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو،  تو اس کو ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو ایک  تہائی ترکہ سےپوراکرنے کے بعد  بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ  کو11 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصہ ہرایک بیٹے کواور 1 حصہ اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت: 11

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹی
222221

یعنی والد مرحوم کے ترکہ کا 18.18فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو، اور 9.09  فیصد مرحوم کی اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔

اور مرحوم کے ترکہ کے دونوں مکانوں کی موجودہ قیمت47 لاکھ روپے میں سے  854,545.45 روپے ہر ایک بیٹے کو ،اور 427,272.72 روپے  اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں