
میں تقریبا دو سال پہلے ایک بلی کے بچے کو گلی سے اٹھا کر گھر لایا تھا۔ اب وہ ہر چار پانچ ماہ بعد بچے دیتی ہے، جو گھر میں گھومتے رہتے ہیں۔ حضرت! مسئلہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ وہ کپڑوں پر گندگی کر دیتے ہیں۔ کیا میں اب اس بلی کو گھر سے کہیں دور چھوڑ سکتا ہوں؟ کیا اس صورت میں مجھے گناہ تو نہیں ہوگا؟
ہم نے اسے کچھ دور چھوڑا تھا، لیکن وہ دوبارہ گھر آ جاتی ہے۔ تو کیا ہم اسے کہیں بہت دور چھوڑ سکتے ہیں؟اور بعض اوقات یہ خبریں بھی ملتی ہیں کہ کتوں کے کاٹنے سے وائرس کی وجہ سے موت ہو گئی۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ یہ وائرس بلیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک طرف ناپاکی کا ڈر ہے اور دوسری طرف اس بیماری کا خوف بھی ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
فتاوی شامی میں ہے:
"وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة) تضر (ويذبحها) أي الهرة (ذبحا) ولا يضر بها لأنه لا يفيد،(قوله وهرة تضر) كما إذا كانت تأكل الحمام والدجاج زيلعي (قوله ويذبحها) الظاهر أن الكلب مثلها تأمل."
(كتاب الخنثی، باب: مسائل شتى، ج: 6، ص: 752، ط: دارالفکر بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الکراھية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج: 5، ص: 361، ط: دارالفکربیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101265
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن