بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 محرم 1448ھ 06 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

پالی ہوئی بلی کو گھر سے دور چھوڑنے کا شرعی حکم


سوال

میں تقریبا دو سال پہلے ایک بلی کے بچے کو گلی سے اٹھا کر گھر لایا تھا۔ اب وہ ہر چار پانچ ماہ بعد بچے دیتی ہے، جو گھر میں گھومتے رہتے ہیں۔ حضرت! مسئلہ یہ ہے کہ کئی مرتبہ وہ کپڑوں پر گندگی کر دیتے ہیں۔ کیا میں اب اس بلی کو گھر سے کہیں دور چھوڑ سکتا ہوں؟ کیا اس صورت میں مجھے گناہ تو نہیں ہوگا؟

ہم نے اسے کچھ دور چھوڑا تھا، لیکن وہ دوبارہ گھر آ جاتی ہے۔ تو کیا ہم اسے کہیں بہت دور چھوڑ سکتے ہیں؟اور بعض اوقات یہ خبریں بھی ملتی ہیں کہ کتوں کے کاٹنے سے وائرس کی وجہ سے موت ہو گئی۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ یہ وائرس بلیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک طرف ناپاکی کا ڈر ہے اور دوسری طرف اس بیماری کا خوف بھی ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

جی ہاں، اگر اس بلی اور اس کے بچوں سے تکلیف ہو رہی ہو تو انہیں کسی مناسب اور محفوظ جگہ پر دور چھوڑا جا سکتا ہے، اور ایسا کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوگا، بشرطیکہ انہیں ایسی جگہ چھوڑا جائے جہاں ان کی خوراک اور حفاظت کا مناسب انتظام ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وجاز قتل ما يضر منها ككلب عقور وهرة) تضر (ويذبحها) أي الهرة (ذبحا) ولا يضر بها لأنه لا يفيد،(قوله وهرة تضر) كما إذا كانت تأكل الحمام والدجاج زيلعي (قوله ويذبحها) الظاهر أن الكلب مثلها تأمل."

(كتاب الخنثی، باب: مسائل شتى، ج: 6، ص: 752، ط: دارالفکر بیروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الهرة إذا كانت مؤذية لا تضرب ولا تعرك أذنها بل تذبح بسكين حاد كذا في الوجيز للكردري."

(کتاب الکراھية، الباب الحادي والعشرون فيما يسع من جراحات بني آدم والحيوانات، ج: 5، ص: 361، ط: دارالفکربیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں