
ہماری مسجد کے امام صاحب تقریباً 30 سال سے نماز پڑھا رہے ہیں، ابھی کچھ عرصہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا ہیں، نماز میں قیام، رکوع اور سجدے پر پوری قدرت ہے،قعدہ اور جلسہ میں صحیح طریقہ سے نہیں بیٹھ سکتے، تشہد کی حالت میں تورک کرکے بیٹھتے ہیں، اس حالت میں تھوڑی سی پیٹھ دیوار کے ساتھ لگ جاتی ہے، یا اگر لگا لیں تو نماز میں کچھ فرق آئے گا؟
تشہد میں تورک کی حالت میں بیٹھنا صحیح ہے یا چوکڑی مار کر، اور جلسہ میں دونوں پاؤں کے پنجوں کے بل بیٹھتے ہیں اس حالت میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟
تشہد (قعدہ) میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ بایاں پاؤں بچھاکر اس پر بیٹھا جائے (اور اس کی انگلیاں حتی الامکان قبلہ رُخ کی جائیں) اور دایاں پاؤں کھڑا کرکے اس کی انگلیاں بھی قبلہ رُخ کی جائیں،لیکن عذر کی وجہ سے تورک کی بھی گنجائش ہے۔ضرورت یا عذر کی وجہ سے ٹیک لگائی جائے تو منع نہیں ہے۔
عذر کے ہوتے ہوئے تشہد کی حالت میں تورک کرنا مناسب ہے بنسبت چوکڑی مارنے کے۔اور اسی طرح عذر کی وجہ سے جلسے میں پنجوں کے بل بیٹھنے سے بھی نماز ادا ہوجاتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وبعد فراغه من سجدتي الركعة الثانية يفترش) الرجل (رجله اليسرى) فيجعلها بين أليتيه (ويجلس عليها وينصب رجله اليمنى ويوجه أصابعه) في المنصوبة (نحو القبلة) هو السنة في الفرض والنفل (ويضع يمناه على فخذه اليمنى ويسراه على اليسرى، ويبسط أصابعه) مفرجةً قليلاً (جاعلاً أطرافها عند ركبتيه) ولايأخذ الركبة هو الأصح؛ لتتوجه للقبلة."
(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:508، ط:سعيد)
وفيه أيضا:
"(و) لا (قادر على ركوع وسجود بعاجز عنهما) لبناء القوي على الضعيف.
(قوله: بعاجز عنهما) أي بمن يومئ بهما قائماً أو قاعداً، بخلاف ما لو أمكناه قاعداً فصحيح، كما سيأتي. قال ط: والعبرة للعجز عن السجود، حتى لو عجز عنه وقدر على الركوع أومأ."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:579، ط:سعيد)
وفيه أيضا:
"(قوله: وللمتطوع إلخ) لعل وجهه أن التطوع قد يكثر كالتهجد فيؤدي إلى التعب فلم يكره له الاتكاء بخلاف الفرض فإن زمنه يسير وإلا فالمفترض إن عجز فقد مر حكمه وإن تعب فالظاهر أنه لا يكره له الاتكاء، تأمل.
(قوله: وبدونه يكره) أي اتفاقا لما فيه من إساءة الأدب شرح المنية وغيره، وظاهره أنه ليس فيه نهي خاص فتكون الكراهة تنزيهية تأمل (قوله وله القعود) أي بعد الافتتاح قائما (قوله: بلا كراهة مطلقاً) أي بعذر ودونه؛ أما مع العذر فاتفاقاً وأما بدونه فيكره عند الإمام على اختيار صاحب الهداية، ولا يكره على اختيار فخر الإسلام وهو الأصح لأنه مخير في الابتداء بين القيام والقعود فكذا في الانتهاء وأما الاتكاء فإنه لم يخير فيه ابتداء بلا عذر بل يكره فكذا الانتهاء. وأما عندهما فلايجوز إتمامها قاعداً بلا عذر بعد الافتتاح قائماً وهذا إن قعد في الركعة الأولى أو الثانية، أما في الشفع الثاني فينبغي أن يجوز عندهما أيضا في غير سنة الظهر والجمعة، وتمامه في شرح المنية."
(باب صلاة المريض، ج:2، ص:101، ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144705100309
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن