
ہم اپنے کاروبار میں ایک شادی شدہ خاتون کو ملازمت پر رکھنا چاہتےہیں، مذکورہ کام میں اس خاتون کو خاص مہارت حاصل ہے اور مردوں کی بہ نسبت وہ اس کام کے لیے زیادہ موزوں اور فائدہ مند ہے۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ گھریلو اخراجات پورے نہیں ہو رہے، اس لیے وہ اپنی ضرورت کے پیشِ نظر ملازمت کرنا چاہتی ہے۔ اس کی مالی ضرورت کی مکمل تفصیل معلوم کرنا بظاہر ممکن نہیں اور نہ ہی مناسب معلوم ہوتا ہے۔
اگر مذکورہ خاتون مکمل پردے کے ساتھ، مثلاً برقع وغیرہ پہن کر ملازمت کرے، اور کام کی ضرورت کے وقت کسی گاہک کو کام سمجھانے یا اس سے کام متعلقہ معلومات لینے کے لیے برقع کی حالت ہی میں آمنے سامنے گفتگو کرنی پڑے، تو کیا ایسی صورت میں اسے ملازمت پر رکھنا شرعاً جائز ہوگا؟
مزید یہ کہ مذکورہ کاروبار میں خواتین بھی بڑی تعداد میں گاہک ہوتی ہیں، جن سے معاملات سمجھنا، سمجھانا اور ڈیل کرنا ایک خاتون کے لیے مرد کی بہ نسبت زیادہ آسان اور مؤثر ہے۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1. کیا مذکورہ خاتون کو شرعی پردے کی مکمل پابندی کے ساتھ ملازمت پر رکھنا جائز ہے؟
2. اگر کام کی ضرورت کے وقت برقع پہن کر گاہک سے آمنے سامنے گفتگو کرنا پڑے تو کیا اس کی بھی گنجائش ہے؟
3. خواتین گاہکوں کے ساتھ معاملات اور ڈیلنگ کے لیے خاتون ملازمہ کا تقرر کرنا شرعاً کیسا ہے؟
اور اگر ہم اس کو ہفتے میں صرف ایک دن اگر ملازمت کے لیے بلائیں تو اس کاشرعی کیا حکم ہو گا؟
صورت مسئولہ میں اگر وہ خاتون واقعۃً ضرورت مند ہو ں کہ ان کا نان و نفقہ پورا کرنے والا اور کمانے والے کوئی نہیں ہے، تو اس صورت میں سائل ان کو اپنے کاروبار میں ان شرائط کے ساتھ ملازمت دے سکتاہے :
1۔عورت مکمل باپردہ ہو۔
2۔عورت کا مردوں کے ساتھ بالکل اختلاط نہ ہو، پردے اور اختلاط سے مراد یہ ہے کہ گھر سے مکمل پردے میں نکلے، مقامِ ملازمت میں غیر محرم سے خلوت(تنہائی) یا بے تکلفانہ اختلاط نہ ہو، ، وہاں چہرہ نہ کھولے، بلاضرورت اجنبیوں سے بات چیت نہ کرے، ضرورت کے موقع پر بھی نرم آواز میں گفتگو نہ ہو
بہتر یہ ہے کہ خاتون دیگر خواتین کے ساتھ ڈیل کریں اور مردوں کے لیے کسی مرد ہی کا انتظام کیا جائے ۔
"الموسوعة الفقهية الكويتية"میں ہے:
"اختلاط الرجال بالنساء: يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم الاختلاط إذا كان فيه:
أ - الخلوة بالأجنبية، والنظر بشهوة إليها.
ب - تبذل المرأة وعدم احتشامها.
ج - عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح والموالد والأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة.
قال تعالى: {قل للمؤمنين يغضوا من أبصارهم} . . . {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن} .
وقال تعالى عن النساء: {ولا يبدين زينتهن} وقال: {إذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب} (1) . ويقول النبي صلى الله عليه وسلم: لا يخلون رجل بامرأة فإن ثالثهما الشيطان (2) وقال صلى الله عليه وسلم لأسماء بنت أبي بكر يا أسماء إن المرأة إذا بلغت المحيض لم يصلح أن يرى منها إلا هذا وهذا وأشار إلى وجهه وكفيه ...
ويجوز الاختلاط إذا كانت هناك حاجة مشروعة مع مراعاة قواعد الشريعة."
(اختلاط، ج:2، ص:290-291، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100105
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن