
میری شادی کو نو سال ہو گئے ہیں، ان نو سالوں میں میری کوئی اولاد نہیں ہوئی، جب کہ میں نے اپنی بیوی کا کافی علاج کروایا ہے، اس کے باوجود میری کوئی اولاد نہ ہو سکی، اب میں نے گھر پر دوسری شادی کی بات کی ہے تو آگے سے بیوی نے کہا ،مجھے طلاق دینی ہوگی، میں یہ دوسری شادی نہیں ہونے دوں گی ،حالاں کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا ہوں۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں ایک غریب بندہ ہوں، ایک مسجد کا امام ہوں ،میں نے نکاح کرتے وقت پانچ لاکھ حق مہر رکھا تھا اور لڑکی والوں نے اپنی طرف سے 10 تولہ سونا بھی لکھوا دیا تھا، جس کا بعد میں مجھے علم ہوا اور میں نے یہ سمجھ کر کچھ نہیں کہا کہ ایسا نہ ہو کہ رشتہ خراب ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ بیوی بعد میں حق مہر معاف کر دے۔
اب اس ساری صورتِ حال میں اگر لڑکی والے مجھ سے زبردستی طلاق لیتے ہیں، تو کیا مجھ پر حق مہر دینا ضروری ہوگا؟ جب کہ میں اگر سالوں سال بھی مزدوری کروں تو بھی حق مہر ادا نہیں کر سکوں گا۔
اور کیا اگر میں اپنی بیوی کو اس کا پورا مہر معاف کرنے کے عوض خلع دوں تو اس سے مہر ساقط ہو جائے گا؟ یا پھر بھی مجھے مہر ادا کرنا پڑے گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا نو سا ل اپنی بیوی کا علاج کروانے کے باوجود اولاد نہیں ہو رہی ہے اور وہ اولاد کی غرض سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے،تو اگر اسے یقین ہے کہ وہ دوسری شادی کے بعد اپنی دونوں بیویوں کے درمیان انصاف کر سکے گا اور ان کے حقوق ادا کرے گا، تو اسے دوسری شادی کرنے کی شرعاً گنجائش ہے ، اس لیے سائل کی بیوی یا اس کے سسرال والوں کا اسے دوسری شادی سے روکنا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح سائل کا دوسری شادی کرنا کوئی ایسا جرم نہیں ہے، جس کی بنیاد پر اس کی بیوی اس سے طلاق کا مطالبہ کرے، بلاوجہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے،اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا"جو عورت اپنے خاوند سے بلاضرورت طلاق مانگےاس پر جنت کی بو حرام ہوگی۔
لہٰذاسائل کے سسرال والوں کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کے گھر کو بسانے کی کوشش کریں، صبر و تحمل سے کام لیں اور رشتوں کو مضبوط رکھیں، معمولی باتوں پر ناراض ہو کر بیٹی کے لیے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں۔
باقی رہی بات طلاق کے بعد مہر کی تو جب سائل طلاق دینا نہیں چاہتا اور اس کی بیوی اور سسرال والے اس سے زبردستی طلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اگر سائل مہر معاف کرنے کی شرط کے بغیر طلاق دے دے دیا تو سائل پر مکمل مہر ادا کرنا لازم ہو گا، تاہم اگر واقعۃ نکاح کرتے وقت یا بعد میں سونے کو مہر مقرر نہیں کیا گیا تو وہ دینا ضروری نہیں۔
البتہ اگر سائل اپنی بیوی کو پورا مہر معاف کرنے کے عوض خلع دے دے گا تو سائل سے مہر کی ادائیگی ساقط ہو جائے گی اور پھر اس کی بیوی کے لیے مہر کا مطالبہ کرنا شرعاً ناجائز ہو گا۔
تفسیر بیان القرآن للتھانوی میں ہے :
﴿فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ( 3) ﴾
ترجمہ:اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلودودوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے پس اگر تم کو احتمال ہوکہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی ،اس امر میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے ۔"
(سورة النساء،آية:3،ج :1،ص:322،ط:مكتبه رحمانيه لاهور)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
"فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدةكأنه لما وسع عليهم أنبأهم أنه قد يلزم من الاتساع خوف الميل فالواجب حينئذ أن يحترزوا بالتقليل فيقتصروا على الواحدة، والمراد فإن خفتم ألا تعدلوا فيما بين هذه المعدودات ولو في أقل الأعداد المذكورة كما خفتموه في حق اليتامى، أو كما لم تعدلوا في حقهن فاختاروا، أو الزموا واحدة واتركوا الجميع بالكلية."
(سورة النساء،آية:3،ج:2،ص:406،ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
مشکوۃ المصابیح میں ہے:
عن ثوبان قال:" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي."
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا"جو عورت اپنے خاوند سے بلاضرورت طلاق مانگےاس پر جنت کی بو حرام ہوگی "(مظاہر حق)
(كتاب النكاح ،باب الخلع والطلاق،ج:2،ص، 978،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) صح (نكاح أربع من الحرائر والإماء فقط للحر) لا أكثر."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:48، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.
إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان. "
( كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488، ط: دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100758
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن