بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کی امامت


سوال

کیا عورت امام بن سکتی ہے؟

جواب

فرض نماز ہو یا نفل ،عورت ، مردوں کے لیے امام نہیں بن سکتی، یعنی عورت  کی اقتدا  میں مرد کی نماز ہی نہیں ہوگی، اور اسی طرح عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا بھی مکروہ تحریمی ہے؛ اس لیے خواتین تنہا اپنی نماز ادا کریں ، جماعت کا اہتمام نہ کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت".

 (کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ، 1 / 565 ، ط : دارالفکر بیروت)

وفیه أيضاً: "(قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل". 

(کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ، 1 / 565 ،ط: دارالفکر بیروت)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101573

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں