بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے بغیر محرم کے حج یا عمرے کے لیے جانے کا حکم


سوال

ایک عورت ہے، وہ حج عمرے کا سفر کرنا چاہتی ہے، لیکن اس کے والدین اور بھائی وغیرہ نہیں ہیں، اور وہ غیر شادی شدہ ہے، تو اس کے لیے ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

اسی طرح ایک عورت ہے، وہ عمرہ کا سفر کرنا چاہتی ہے، اس کے محرم تو ہیں لیکن وہ ان کا خرچ نہیں اٹھا سکتی، تو ایسی صورت میں اس کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کے لیے فرض حج  کی ادائیگی کے لیے  ضروری ہے کہ اگر وہ مکہ مکرمہ سے مسافتِ سفر کی مقدار دور ہوں تو اس کے ساتھ شوہر یا دوسرا کوئی محرم ساتھ ہو   ۔ محرم کے بغیر سفر کرنا عورت کے لیے ناجائز اور حرام ہے، خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، تنہا ہو یا اس کے ساتھ دیگر عورتیں ہوں، کسی بھی حالت میں جانا جائز نہیں، اور ایسی صورت میں اس کے لیے  حکم یہ ہے کہ اگر وہ مالدار ہے اور اس کا شوہر یا کوئی محرم نہیں ہے یا محرم ہے مگر محرم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتی تو اس کے لیے شرعی حکم یہ ہے کہ وہ انتظار کرتی رہے، جب تک کہ کسی  محرم کا بندوبست ہوجائے یا محرم کے اخراجات کا بندوبست ہوجائے۔اور  اگر زندگی بھر محرم کا بندوبست نہ ہوسکے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ حج بدل کی وصیت کرجائے، تاکہ لواحقین حج بدل کرسکیں۔(فتاوی تاتارخانیہ،2/434،ط:ادارۃ القرآن-بدائع الصنائع،کتاب الحج، 2/299، ط:داراحیاء التراث بیروت)

1-2 : لہذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی عورت مکہ مکرمہ سے مسافتِ سفر کی مقدار دور ہو، اور اس کے ساتھ جانے والا کوئی محرم نہ ہو، یا ، محرم تو ہو لیکن اس کے اخراجات کا بندوبست نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ عورت  حج یا عمرے کے سفر پر نہ جائے، کیوں کہ اس کے لیے بغیر محرم کے عمرہ یا حج کے سفرکے لیے جاناجائزنہیں ہے،تاہم اگر بغیر محرم کے سفرکرکے حج یاعمرہ کرے گی توعمرہ اور حج  کراہت تحریمی کے ساتھ اداہوجائے گا، لیکن محرم کے بغیر سفرکرنے کا گناہ بھی ہوگا۔(فتاوی شامی،کتاب الحج 2/465، ط:سعید)

مشکاۃ شریف میں ہے:

"وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم» . فقال رجل: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب ‌فاحجج ‌مع ‌امرأتك."

( کتاب المناسک،ج:2، ص: 773، رقم الحدیث:2513، ط:  المکتب الاسلامي بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا  إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا في فتاوى قاضي خان والمجوسي إذا كان يعتقد إباحة مناكحتها لا يسافر معها كذا في محيط السرخسي والمراهق كالبالغ وعبد المرأة ليس بمحرم لها كذا في الجوهرة النيرة ولا عبرة للصبي الذي لا يحتلم والمجنون الذي لا يفيق كذا في محيط السرخسي وتجب عليها النفقة والراحلة في مالها للمحرم ليحج بها، وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج، وإن لم يكن لها محرم لا يجب عليها أن تتزوج للحج كذا في فتاوى قاضي خان ثم تكلموا أن أمن الطريق وسلامة البدن - على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - ووجود المحرم للمرأة شرط لوجوب الحج أم لأدائه، بعضهم جعلوها شرطا للوجوب وبعضهم شرطا للأداء، وهو الصحيح وثمرة الخلاف فيما إذا مات قبل الحج فعلى قول الأولين لا تلزمه الوصية وعلى قول الآخرين تلزمه كذا في النهاية".

(کتاب المناسک ،ج:1،ص:218،دارالفکر)

المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی میں ہے:

"‌والمحرم ‌في ‌حق ‌المرأة شرط، شابة كانت أو عجوزاً إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام."

(كتاب المناسک، ج:2، ص: 419، ط: دارالکتب العلمية بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں