
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا عورت گھر سے باہر کر سکتی ہے کیونکہ ہمارے یہاں مستورات کے ایک مدرسے میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا جوڑ رکھا گیا ہے، مستورات وہاں جا کر قیام کریں گی ، تو کیا اس طرح درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں عورت کا کسی مدرسہ میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرنا صحیح نہیں ہے، واضح رہے کہ عورت کے اعتکاف کی جگہ اس کا گھر ہے، لہٰذا عورت کا مسجدمیں بھی اعتکاف کرنا منع ہے۔
فتح القدیر میں ہے:
"(قوله: أما المرأة فتعتكف في مسجد بيتها) أي الأفضل ذلك، ولو اعتكفت في الجامع أو في مسجد حيها -وهو أفضل من الجامع في حقها- جاز، وهو مكروه، ذكر الكراهة قاضي خان."
(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، 400/2، ط: رشيدية)
عورتوں کے اعتکاف کے متعلق مزید تفصیلات کے لیے جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود متعلقہ فتاوی سے استفادہ کر سکتے ہیں، جیسا کہ درج ذیل کچھ لنکس ہیں:
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144409101651
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن