بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا زینت کے لیے زبان اور پیٹ کو چھیدنا


سوال

خاتون کا کان ناک کے علاوہ جگہیں (جیسے زبان، پیٹ وغیرہ) چھیدنے کا کیا حکم ہے؟ یعنی جس طرح کان کو چھید لیتے ہیں اور پھر زینت کے لیے اس میں بالی پہنتے ہیںِ اسی طرح زینت کے لیے پیٹ وغیرہ  چھیدنا اور زینت کے لیے کوئی چیز اس میں ڈالنا شرعاً کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ انسانی جسم انسان کے پاس اللہ تعالٰی کی طرف سے امانت ہے، اس میں اپنی مرضی سے تصرف کرنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا  اللہ تعالٰی کی  تخلیق کردہ صورت میں تبدیلی ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، البتہ   خواتین کے لیے زیور پہننے کے لیے کان  اور ناک چھیدناتو جائز ہے، کیوں کہ یہ زینت کے اظہار کی جگہیں ہیں، لیکن اس کے علاوہ زبان یا پیٹ چھیدنا جائز نہیں ہے،کیوں کہ یہ اظہارِ زینت کی جگہیں نہیں ہیں، نیز اس میں بدن کو بے جا اذیت پہنچانا بھی ہے،لہٰذا جس حد تک شریعت نے اجازت دی ہے، اسی حد  تک  محدود رہنا چاہیے۔

الدر  المختار مع رد المحتار میں ہے:

" ولا بأس بثقب أذن البنت والطفل استحسانا ملتقط. قلت: وهل يجوز الخزام في الأنف، لم أره.

(قوله والطفل) ظاهره أن المراد به الذكر مع أن ثقب الأذن لتعليق القرط، وهو من زينة النساء، فلا يحل للذكور، والذي في عامة الكتب، وقدمناه عن التتارخانية: لا بأس بثقب أذن الطفل من البنات وزاد في الحاوي القدسي: ولا يجوز ثقب آذان البنين فالصواب إسقاط الواو (قوله لم أره) قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط اهـ ط وقد نص الشافعية على جوازه مدني (قوله ويكره للذكر والأنثى إلخ) قدمنا عن الخانية ما هو أعم من ذلك، وهو أن النساء فيما سوى الحلي من الأكل والشرب والأدهان من الذهب والفضة والعقود بمنزلة الرجال."

(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:420، ط:سعيد)

فتح الباری میں ہے:

"ويؤخذ منه أن ‌جناية ‌الإنسان ‌على ‌نفسه كجنايته على غيره في الإثم لأن نفسه ليست ملكا له مطلقا بل هي لله تعالى فلا يتصرف فيها إلا بما أذن له فيه."

(كتاب الأيمان والنذور، ج:11، ص:539، ط:دار المعرفة)

وفيه أيضا:

"وقال أبو داود في السنن ‌الواشمة التي تجعل الخيلان في وجهها بكحل أو مداد والمستوشمة المعمول بها انتهى وذكر الوجه للغالب وأكثر ما يكون في الشفة وسيأتي عن نافع في آخر الباب الذي يليه أنه يكون في اللثة فذكر الوجه ليس قيدا وقد يكون في اليد وغيرها من الجسد وقد يفعل ذلك نقشا وقد يجعل دوائر وقد يكتب اسم المحبوب وتعاطيه حرام بدلالة اللعن كما في حديث الباب ويصير الموضع الموشوم نجسا لأن الدم انحبس فيه فتجب إزالته إن أمكنت ولو بالجرح إلا إن خاف منه تلفا أو شينا أو فوات منفعة عضو فيجوز إبقاؤه وتكفي التوبة في سقوط الإثم ويستوي في ذلك الرجل والمرأة."

(كتاب اللباس، ج:10، ص:372، ط:دار المعرفة)

التوضيح لشرح الجامع الصحيح میں ہے:

"الوشم: غرز إبرة ونحوها في ظهر الكف أو المعصم أو الشفة وغير ذلك من بدن المرأة حتى يسيل الدم منه، ثم يحشى ذلك الموضع بكحل أو نورة أو نيل ففاعله واشم، والمفعول بها موشومة، فإن طلبت فعل ذلك بها فهي مستوشمة، وهو حرام على الفاعل والمفعول بها باختيارها والطالبة له."

(كتاب التفسير، ج:23، ص:ط:دار النوادر)

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” انسان کے اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں ہیں جن میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہے نہ کسی کو ہدیہ اور ہبہ کے طور پر دے سکتا ہے، اور نہ ان چیزوں کو اپنے اختیار سے ہلاک و ضائع کرسکتا ہے۔"

(انسانی اعضاء کی پیوندکاری،  ج:7، ص:60، ط؛دار العلوم كراچي)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101382

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں