بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے چہرے پر تل بنانے کا حکم


سوال

عورت کا چہرہ پر تل بنانا کیسا ہے؟

جواب

چہرا  گدوا کر تل بنانا شرعاً  حرام ہے،البتہ زینت کے واسطے گدوائے بغیر عارضی تل ہوتو اس میں شرعاً مضائقہ نہیں، بشرطیکہ اس میں غیر کی مشابہت نہ ہو۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي جحيفة - رضي الله عنه - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن ثمن الدم، وثمن الكلب، وكسب البغي، ولعن آكل الربا وموكله، ‌والواشمة والمستوشمة، والمصور» . رواه البخاري.

(‌والواشمة) أي: المرأة التي تشم، في النهاية: الوشم أن يغرز الجلد بإبرة، ثم يحشى بكحل أو نيل فيزرق أو يخضر (والمستوشمة) : أي: التي يفعل ذلك بها: وإنما نهي عنه لأنه من فعل الفساق والجهال، ولأنه تغيير خلق الله."

(کتاب البیوع، ج:5، ص:1895، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101563

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں