
کیا عورت اپنے شوہر کے لیے جینز پہن سکتی ہے؟
واضح رہے کہ عورت اپنے گھر کی تنہائی میں شوہر کے سامنے جینز پہن سکتی ہے،بشرط یہ کہ گھر میں کوئی سمجھ دار بچہ نہ ہو، اور یہ لباس پہن کر شوہر کے علاوہ کسی اور مرد کے سامنے نہ آئے، اس لئےشوہر کے علاوہ کسی اور کے سامنے ایسا لباس پہننا جائز نہیں، جس سے جسم کی ساخت نمایاں ہوتی ہو، نیز اس میں غیر مسلم خواتین کے فیشن کی پیروی بھی مقصود نہ ہو۔
قرآن مجید میں ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً ﴿الاحزاب59 ﴾
ترجمه:
"اے پیغمبر اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمان کی بیبیوں سے بھی کہہ یجیئے کہ (سر سے) نیچے کرلیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور الله تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ ـــــــــــــ( بيان القرآن)"
"چنانچہ فرماتے ہیں اے نبی (صی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عورتوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ جب ضرورت کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو اپنے اوپر کچھ اپنی فراخ چادریں لٹکالیں تاکہ ان کا سر اور چہرہ اور بدن کسی کو نظر نہ آئے۔
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت کے لے اپنے گھروں سے نکلیں تو اپنے سروں اور چہروں کو بڑی چادروں سے ڈھانک لیں۔ البتہ ایک آنکھ کسی طرح کھول لیں جس سے ان کو راستہ نظر آسکے اس طرح سے سر اور چہرہ اور بدن کا چھپانا بہت قریب ہے اس بات کے کہ پہچان لی جاویں کہ یہ پردہ والی اور پاکباز عورتیں ہیں اور اس پردہ سے لوگوں کو ان کی عفت اور پاکدامنی عیاں ہوجائے اور کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ لوگوں کا طریقہ ہے کہ لباس دیکھ کر معاملہ کرتے ہیں جیسا لباس دیکھتے ہیں ویسا ہی معاملہ کرتے ہیں۔ پس اس حالت اور ہیئت میں دیکھ کر ان کو ایذا نہ دی جائے اور بدکار ان سے تعرض نہ کریں ان کے پردہ کی اس وضع اور ہیئت کو دیکھ کر کسی کی ہمت نہ ہو کہ وہ ان کو چھیڑ سکے۔ شریر لوگ راہ چلتی عورتوں کو چھیڑتے ہیں اللہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ عورتیں گھر سے نکلتے وقت اپنی چادریں اپنے اوپر ڈال لیں اور اپنا منہ اور بدن اس سے چھپا لیں کہ لوگ اس وضع اور ہیئت کو دیکھ کر دیکھ کر پہچان لیں کہ یہ شریف زادیاں اور غیرت اور حیا والی عورتیں ہیں اور یہ بھی جان لیں کہ یہ باندیاں نہیں تو کوئی شخص ان سے لونڈیوں اور باندیوں کی طرح بات نہ کرسکے اور نہ ان سے کسی خدمتی کام کے لئے کچھ کہہ سکے پر دہ تو باندیوں پر بھی ہے مگر وہ ذرا خفیف ہے۔ آزاد عورتوں کی طرح ان پر سختی نہیں اس لئے کہ اس سے خدمت اور کاروبار میں تنگی لاحق ہوتی ہے۔"
(ج :6 ، ص:332، ط:مکتبہ المعارف)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"(قوله وهي غير بادية) أي ظاهرة وفي الذخيرة وغيرها وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بها بحيث تصف ما تحتها، ولم يكن رقيقا بحيث يصف ما تحته، فإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره اهـ.
وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدها وعليها ثياب ما لم يكن ثوب يبين حجمها، فلا ينظر إليه حينئذ لقوله - عليه الصلاة والسلام - «من تأمل خلف امرأة ورأى ثيابها حتى تبين له حجم عظامها لم يرح رائحة الجنة» ولأنه متى لم يصف ثيابها ما تحتها من جسدها يكون ناظرا إلى ثيابها وقامتها دون أعضائها فصار كما إذا نظر إلى خيمة هي فيها ومتى كان يصف يكون ناظرا إلى أعضائها اهـ. أقول: مفاده أن رؤية الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعة ولو كثيفا لا ترى البشرة منه، قال في المغرب يقال مسست الحبلى، فوجدت حجم الصبي في بطنها وأحجم الثدي على نحر الجارية إذا نهز، وحقيقته صار له حجم أي نتو وارتفاع ومنه قوله حتى يتبين حجم عظامها اهـ وعلى هذا لا يحل النظر إلى عورة غيره فوق ثوب ملتزق بها يصف حجمها فيحمل ما مر على ما إذا لم يصف حجمها فليتأمل."
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج:6،ص: 366، ط:ایچ ایم سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100131
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن