
میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی جائے اور اس کے والدین اس کے شوہر سے طلاق یا خلع لیے بغیرکسی دوسرے شخص سے دوسری شادی کروا لیں تو اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہوگی اورمجھے اب کیا کرنا چاہیے؟
شوہر کے موجود ہوتے ہوئے بغیر جدائی (طلاق یا خلع) کےعورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا حرام اور ناجائز اور بد ترین گناہ ہے، لہذا اگر کسی عورت نے شوہر کی موجودگی میں اس سے طلاق یا خلع لیے بغیر دوسرا نکاح کیا تو یہ نکاح شرعاً ناجائز اورباطل ہے، یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا ، عورت بدستور اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ر ہےگی اور پہلے شوہر سے عورت کا نکاح قائم رہےگا،اگر عورت کے گھرو الوں کی بھی رضامندی اس میں شامل ہوتو وہ بھی سخت گناہ گار ہوں گے،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کا اگر اس کے شوہرسے طلاق یا خلع لیے بغیر اس کے والدین نے دوسرا نکاح کرلیا ہے تو سخت گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوئے ہیں، دوسرا نکاح شرعاً سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا،فوری طور پر دونوں میں علیحدگی کروانا لازم ہے۔
مذکورہ عورت کا اپنے شوہرسے نکاح بدستور برقرار ہے ، شوہر سے ناراضگی کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا،اگر شوہر سے نباہ نہیں ہورہا تو ایسی صورت میں خاندان کے معزز لوگوں کے سامنے یا محلے کی پنچایت کے سامنے اس معاملہ کو رکھا جائے ، اور ان کے تعاون سے اس مسئلہ کا حل نکالا جائے، اس طرح بغیر طلاق یا خلع کے دوسری جگہ نکاح کرنے کا شرعاً کوئی جواز نہیں ہے۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"ونكاح المنكوحة لا يحله أحد من أهل الأديان".
(كتاب السير، باب نكاح أهل الحرب ودخول التجار إليهم بأمان، ج: 10، ص: 96، ط: مطبعة السعادة - مصر)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
" ( فصل ) : ومنها أن لاتكون منكوحة الغير، لقوله تعالى : { والمحصنات من النساء } معطوفًا على قوله عز وجل : { حرمت عليكم أمهاتكم } إلى قوله : { والمحصنات من النساء } وهن ذوات الأزواج ، وسواء كان زوجها مسلمًا أو كافرًا".
(كتاب النكاح، فصل أن لا تكون منكوحة الغير، ج: 2، ص: 268، ط: دارالفکر،بیروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"( القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير ) .لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة ، كذا في السراج الوهاج ."
(كتاب النكاح، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، ج:1، ص:280، ط: دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101998
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن