بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آدمی کے آپریشن میں کٹے ہوئے عضو کو محرم و نامحرم کے لیے دیکھنے کا حکم


سوال

کسی آدمی کا کٹا ہوا عضو جو آپریشن کے درمیان کٹا ہو، اس کو غیر محرم اور محرم وغیرہ دیکھ سکتے ہیں کہ نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ  کسی آدمی کا آپریشن میں علیحدہ ہونے والا عضو اگر جسم کے مستور (یعنی جس کا پوشیدہ رکھنا لازم ہے)حصے کا ہو، تو اُس کا ستر میں رکھنا واجب ہے، بلاضرورتِ شدیدہ کسی کے اعضائے مستورہ دیکھنا خواہ وہ انسانی جسم سے الگ ہو یا نہیں؛ بہردوصورت شرعاً جائز نہیں ہے۔ اور اگر وہ عضو آدمی کے اعضائے مستورہ کے علاوہ ہو تو دیکھنا جائز ہے، تاہم نامحرم کے لیے بہتر یہ ہے کہ نہ دیکھےکیوں کہ دیکھنے سے اگر خیالات بھٹکنے اور شہوت کا اندیشہ ہو تو قطعاً ناجائز ہے۔

نیز اعضائے انسانی کٹ جانے کے بعد بھی قابلِ تکریم ہوتے ہیں، لہذاآپریشن میں علیحدہ ہونے والے عضو کو کسی بھی طرح کے استعمال میں لانا شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ اُسے کسی کپڑےمیں لپیٹ کر قبرستان وغیرہ میں دفنانا ضروری ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"وفي المجتبى والتنوير ‌وكل ‌عضو ‌لا ‌يجوز ‌النظر إليه قبل الانفصال لا يجوز بعده وهو الأصح كشعر رأسها."

(كتاب الكراهية، ج:2، ص:539، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكل عضو لا يجوز النظر إليه قبل الانفصال لا يجوز بعده) ولو بعد الموت ‌كشعر ‌عانة وشعر رأسها وعظم ذراع حرة ميتة وساقها وقلامة ظفر رجلها دون يدها مجتبى.

وفي الشامية: (قوله وعظم ذراع حرة ميتة) احترز بالذراع عن عظم الكف والوجه مما يحل النظر إليه في الحياة..الخ."

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:207، ط:سعيد)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا وجد عضو من أعضاء الآدمي كيد أو رجل لم يغسل ولم يصل عليه لكنه ‌يدفن."

(باب الشهيد، ج:2، ص:54، ط:دار المعرفة)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل میں ہے:

” عورتوں کے سر کے بال بھی ستر میں داخل ہیں، اور جو بال کنگھی میں آجاتے ہیں ان کا دیکھنا بھی نامحرم کو جائز نہیں، اس لیے بالوں کو پھینکنا نہیں چاہیے، بلکہ کسی جگہ دبا دینا چاہیے۔“

(حیض ونفاس، ٣/ ١٤٧، ط: مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101674

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں