
1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مرغی کھانے کا ارادہ فرماتے تو چند دن تک اس کو باندھے رکھتے اس کے بعد مرغی کھاتے؟
2 اونٹ کا گوشت کھانا سنت ہے؟
3۔ نیل گائے کا گوشت کھانا سنت ہے؟
٤ سرخاب کا گوشت کھانا سنت ہے؟
5۔ مچھلی کاکھانا سنت ہے؟
ایسا سنا ہے کیا واقعی ان چیزوں کو کھانا سنت ہے ؟
1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرغی کھانا ثابت ہے،لیکن مرغی کھانے سےپہلےچند دن تک اس کوباندھےرکھنااورپھر تناول فرمانا یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ۔البتہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جو مرغیاں خالص گندگی کھاتی تھیں اور اس وجہ سے ان کے گوشت اور جسم سے بدبو آنے لگتی تھی، تو آپ رضی اللہ عنہ انہیں تین روز تک پنجرہ میں بند رکھتےتھے، پھر ذبح کرکے اس کا گوشت کھاتے۔ سلفِ صالحین کا بھی یہی معمول رہاہے۔
البتہ اگر مرغی پاک اور صاف ستھری چیزیں بھی کھاتی ہو اور کبھی کبھار گندی چیزیں بھی کھا لے، لیکن اس کے گوشت یا جسم سے کسی قسم کی بدبو ظاہر نہ ہو تو ایسی صورت میں اسے چند روز تک پنجرے میں بند رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
2۔اونٹ کا گوشت کھاناسنت عادی (سنت زوائد) میں سے ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹ کا گوشت تناول فرماتے تھے۔
3۔نیل گائے کاگوشت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایاہے۔
4۔سرخاب‘‘ جسے عربی میں ’’حباریٰ‘‘ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخاب کا گوشت بھی تناول فرمایاہے۔
5۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مچھلی بھی تناول فرمائی ہے۔
صحیح البخاری میں ہے:
"عن أبي موسى، يعني: الأشعري رضي الله عنه قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يأكل دجاجا."
(كتاب الذبائح والصيد، باب الدجاج، ج:7، ص:269، ط:دار التأصيل)
”ترجمہ:حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا۔“
فتح الباری میں ہے:
«والمعتبر في جواز أكل الجلالة زوال رائحة النجاسة بعد أن تعلف بالشيء الطاهر على الصحيح، وجاء عن السلف فيه توقيت فعند ابن أبي شيبة عن ابن عمر أنه كان يحبس الدجاجة الجلالة ثلاثا، كما تقدم. وأخرج البيهقي بسند فيه نظر عن عبد الله بن عمرو مرفوعا أنها لا تؤكل حتى تعلف أربعين يوما.»
((كتاب الذبائح والصيد، باب الدجاج ،ج:9، ص: 648، ط السلفية)
سنن أبي داود میں ہے:
حدثنا الفضل بن سهل، حدثنا إبراهيم بن عبد الرحمن ابن مهدي، حدثني بريه بن عمر بن سفينة، عن أبيه، عن جده، قال: «أكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى»".
(كتاب الأطعمة، باب في أكل لحم الحبارى، ج:3، ص: 416، ط:المطبعة الأنصارية)
”ترجمہ:فضل بن سَہل نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن مہدی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے بُریہ بن عمر بن سفینہ نے اپنے والد سے، اور انہوں نے اپنے دادا (حضرت سفینہؓ) سے روایت کیا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حُبارى کا گوشت کھایا۔“
صحيح مسلم میں ہے:
"حدثنا أبو حازم عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه رضي الله عنه؛ أنهم خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم محرمون. وأبو قتادة محل. وساق الحديث. وفيه: فقال "هل معكم منه شيء؟ " قالوا: معنا رجله. قال: فأخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلها."
(كتاب الحج، باب تحريم الصيد للمحرم، ج:2، ص:855، ط:دار إحياء التراث العربي)
”ترجمہ:ہم سے ابو حازم نے، عبداللہ بن ابو قتادہ سے، اور وہ اپنے والد (ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے جبکہ سب احرام باندھے ہوئے تھے اور ابو قتادہ محرم نہیں تھے۔ (پوری حدیث بیان کی)۔ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا: ’کیا تمہارے پاس اس (نیل گائے) میں سے کچھ ہے؟‘ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہمارے پاس اس کی ران ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس کو کھایا۔“
وفیہ ایضا:
" أخبرني عمرو : أنه سمع جابرا يقول: غزونا جيش الخبط وأمر علينا أبو عبيدة، فجعنا جوعا شديدا فألقى البحر حوتا ميتا،لم نر مثله ، يقال له العنبر ، فأكلنا منه نصف شهر، فأخذ أبو عبيدةعظما من عظامه فمر الراكب تحته فأخبرني أبو الزبير : أنه سمع جابرا يقول: قال أبو عبيدة: كلوا. فلما قدمنا المدينة ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: "كلوا رزقا أخرجه الله، أطعمونا إن كان معكم". فآتاه بعضهم فأكله."
(کتاب المغازی، باب غزوة سيف البحر،ج:5، ص: 422، ط:دارالتاصیل)
ترجمہ:عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ہم "جیَشُ الخَبَط" (ایک لشکری مہم) میں نکلے اور ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ تھے۔ ہمیں سخت بھوک لگی۔ اسی دوران سمندر نے ایک بہت بڑی مردہ مچھلی باہر پھینکی، ہم نے اس جیسی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کو "عَنْبَر" کہا جاتا تھا۔ ہم نے اس میں سے آدھا مہینہ کھایا۔ابو عبیدہؓ نے اس کی ایک ہڈی اٹھائی اور ایک سوار اس کے نیچے سے گزر گیا (یعنی وہ ہڈی اتنی بڑی تھی)۔ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابرؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابو عبیدہؓ نے کہا: "کھاؤ۔"
پھر جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کھاؤ، یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہیں دیا۔ اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔"چنانچہ صحابہ میں سے کچھ نے وہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس میں سے کھایا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان ما يكره من الحيوانات فيكره أكل لحوم الإبل الجلالة وهي التي الأغلب من أكلها النجاسة لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن أكل لحوم الإبل الجلالة ولأنه إذا كان الغالب من أكلها النجاسات تتغير لحمها وينتن فيكره أكله كالطعام المنتن. وروي «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نهى عن الجلالة أن تشرب ألبانها» ؛ لأن لحمها إذا تغير يتغير لبنها، وما روي «أنه عليه الصلاة والسلام - نهى عن أن يحج عليها وأن يعتمر عليها وأن يغزى وأن ينتفع بها فيما سوى ذلك» فذلك محمول على أنها أنتنت في نفسها فيمتنع من استعمالها حتى لا يتأذى الناس بنتنها كذا ذكره القدوري رحمه الله في شرحه مختصر الكرخي، وذكر القاضي في شرحه مختصر الطحاوي أنه لا يحل الانتفاع بها من العمل وغيره إلا أن تحبس أياما وتعلف فحينئذ تحل وما ذكر القدوري رحمه الله أجود؛ لأن النهي ليس لمعنى يرجع إلى ذاتها بل لعارض جاورها فكان الانتفاع بها حلالا في ذاته إلا أنه يمنع عنه لغيره.
ثم ليس لحبسها تقدير في ظاهر الرواية هكذا روي عن محمد رحمه الله أنه قال: كان أبو حنيفة رضي الله عنه لا يوقت في حبسها وقال تحبس حتى تطيب وهو قولهما أيضا، وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة عليه الرحمة أنها تحبس ثلاثة أيام، وروى ابن رستم رحمه الله عن محمد في الناقة الجلالة أو الشاة والبقر الجلال أنها إنما تكون جلالة إذا تفتتت وتغيرت ووجد منها ريح منتنة فهي الجلالة حينئذ لا يشرب لبنها ولا يؤكل لحمها، وبيعها وهبتها جائز، هذا إذا كانت لا تخلط ولا تأكل إلا العذرة غالبا فإن خلطت فليست جلالة فلا تكره؛ لأنها لا تنتن."
(كتاب الذبائح والصيود، فصل في بيان ما يكره من الحيوانات،ج:40،39، ط:دار الكتب العلمية)
التمهيد ابن عبدالبر میں ہے:
"في الأحاديث الثابتة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل خبزا ولحما وأكل كتفا ونحو هذا كثير (ولم يخص لحم جزور من غيره)."
(باب الزاي، حديث سابع لزيد ابن اسلم، ج:3، ص:315، ط:الشؤون الإسلاميه)
فتاوی شامی میں ہے:
"والسنة نوعان: سنة الهدي، وتركها يوجب إساءة وكراهية كالجماعة والأذان والإقامة ونحوها. وسنة الزوائد، وتركها لا يوجب ذلك كسير النبي - عليه الصلاة والسلام - في لباسه وقيامه وقعوده."
(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، مطلب في السنة وتعريفها، ج:1، ص:103، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101377
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن