بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کو ہدیہ دینے میں برابری نہ کرنے کا شرعی حکم


سوال

میری 6 بہنیں ہیں، اور میں والد صاحب کا ایک بیٹا ہوں،میرے والد صاحب کا ایک گھر  A-152 تقریباً  584 گز کا ہے، میری تمام بہنوں کی شادیاں ہوگئی ہیں، میری والدہ اور والد صاحب کا 5 سال پہلے انتقال ہوا ہے،میرے والد صاحب نے یہ گھر مجھے بنوا کے ہدیہ کردیا تھا،اور اس کا قبضہ بھی مجھے دے دیا تھا،اور اس گھر میں میری شادی تقریباً 27 سال پہلے ہوئی ہے،البتہ والد صاحب اس گھر میں نہیں رہتے تھے، نیز والد صاحب نے اس گھر کے علاوہ گاؤں کی  زمین اپنی بیٹیوں کے لیے دینے کا کہا تھا،لیکن اس زمین میں کچھ مسائل تھے  والد صاحب کے انتقال کے 5 سال بعد  میری بڑی بہن کہہ رہی ہے کہ والد کے اس گھر سے مجھے بھی حصہ دیا جائے، جب کہ والد صاحب نے یہ گھر مجھے بنوا کے دے دیا تھا، جس کا پورا محلہ اور ہماری برادری  گواہ ہے، شرعی اعتبار سے راہ نمائی فرما دیں۔

 

جواب

والد  زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد کا  خود مالک ہوتا ہے، اس  کی زندگی میں اس کی اولادیاکوئی اوراس کی جائیداد میں   حق دار نہیں ،والد زندگی میں اپنےمال میں ہرجائز تصرف کرسکتاہے،  اور والد اپنی زندگی  میں جو چیزکسی کومالک بناکردے وہ  شرعاً ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے،البتہ اپنی اولاد  میں اگر  جائیداد وغیرہ تقسیم کر رہا ہو تو والد پر لازم ہوتاہے کہ اپنی ساری اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کرے، وگرنہ والد سخت گناہ گار ہوگا، البتہ جو  جائیداد  والد نے تقسیم کر دی ہو  اورحصہ الگ الگ کرکے اپنا قبضہ اور تصرف ختم کرکے دوسرے کو مالکانہ قبضہ اور تصرف   بھی دےدیاہو، اگر چہ وہ  غیر منصفانہ ہی کیوں نہ ہو تب بھی  جس کو جو کچھ دیا ہو وہ اس کا مال بن جاتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق والد نے اپنی زندگی میں جو گھر (A-152) اپنے بیٹے کو ہدیہ (گفٹ)  کیا ہے، اور اس گھر سے اپنا قبضہ اور تصرف ختم کر کے سائل کو مکمل تصرف اور مالکانہ قبضہ بھی دیا تھا تو وہ گھر شرعاً سائل کی ملکیت میں آچکا تھا، لہذا اب سائل کی بڑی  بہن کا مذکورہ گھر میں  شرعاً حصہ نہیں ہے،البتہ والد بیٹیوں کو محروم کرنے کی وجہ سے  گناہ گار ہوا،  لہذا  بیٹے   یعنی سا ئل کو چاہیےکہ  والد کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کے لیے دیگر بہنوں کو اتنا دیدے کہ جس  سے ان  کا حصہ سائل کے برابر ہوجائے یا کچھ مال وغیرہ دے کر ان کو راضی کرلے۔

نیز والد نے گاؤں کی جو زمین  بیٹیوں کے دینے کے لئے کہی تھی،لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے والد اپنی زندگی میں  مذکورہ زمین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو نہ دے سکے،تو مذکورہ صورت میں گفٹ کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے والد کا یہ ہدیہ (گفٹ) تام نہ ہوا،لہذا مذکورہ تمام زمین والد کی وفات کے بعد ترکہ میں شامل ہوگی،اور تمام ورثاء میں شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم کی جائے گی، البتہ اگر بھائی یعنی سائل اپنی خوشی سے اپنا حصہ بھی اپنی بہنوں کو دینا چاہے تو شرعاً اس کو اختیار حاصل ہے، بلکہ باعث ِ اجر بھی ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: "أكل ولدك نحلت مثله؟" قال: لا قال: "فأرجعه" . وفي رواية: أنه قال: "أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟" قال: بلى قال: "فلا إذن" . وفي رواية: أنه قال: أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: "أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟" قال: لا قال: "فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم". قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: "لا أشهد على جور."

(کتاب البیوع، باب العطایا، ج : 3، ص : 158، رقم الحدیث : 3019، ط : بشری)

مظاہر ِحق جدید میں ہے :

"ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیرکے بارے  منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ) انہیں  رسولِ کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(کتاب البیوع، باب العطایا، ج : 3، ص : 193، ط : دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے :

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة."

(کتاب الوقف، فصل یراعی شرط الواقف فی اجارته، مطلب مھم فی قول الواقف علی الفریضة الشرعیة، ج : 4، ص : 444، ط : سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب."

وفیہ ایضا ً:

"رجل قال: جعلت هذا لولدي فلان كانت هبة، ولو قال: هذا الشيء لولدي الصغير فلان جاز وتتم من غير قبول، كذا في التتارخانية."

(کتاب الھبة،‌‌ الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج : 4، ص : 375/376، ط : رشیدیه)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم."

(کتاب الھبة، ج : 5، ص : 696، ط : سعید)

درر الحکام  فی شرح مجلۃ الاحکام  میں ہے :

" كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."

(‌‌الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك، ج : 3، ص : 201، المادۃ : 1192، ط : دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100856

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں