بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کا والد سے زندگی میں وراثتی حصہ کا مطالبہ کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

میری عمر 66 سال ہے، مختلف بیماریوں نے گھیرا ہوا ہے۔میرے تین بچے ہیں ، بڑا بیٹا 35 سال کا ہے، پانچ ماہ پہلے اس کی شادی کی ہے، جس میں ایک خطیر رقم خرچ کی ہے، میرا چشمہ کا کاروبار ہے،بیٹا دوکان پر میرے ساتھ ہے۔دو بیٹیاں ہیں، جن کے رشتے نہ مل سکنے کی وجہ سے ابھی تک ان کی شادیاں نہ کرسکا۔کاروباری حالت بہت خراب ہے،گھر کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے، میرا ایک مکان اور ایک دکان ہے۔

پوچھنا یہ ہے کہ میرا بیٹا اپنا حصہ مانگ رہا ہے کہ میں اپنا کاروبار کروں گا،اور اپنا مکان علیحدہ کروں گا۔میری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت اس معاملہ میں مجھے کیا حکم دیتی ہے؟ کیا میں اپنے بیٹے کو اپنی ملکیت میں سے کچھ دے سکتا ہوں؟ اور اگر نہ دوں کیا شریعت مجھے اس کی اجازت دیتی ہے؟

جواب

صاحب جائیداد اپنی زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد کا تن تنہا  خودمالک ہوتا ہے، اس  کی زندگی میں اس کی اولادیاکوئی اوراس کی جائیداد میں   حق دار نہیں ہوتا ،اور نہ ہی اولاد و عبید میں کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے، نیز صاحب جائیداد پر اپنی زندگی میں  جائیداد تقسیم کرنا بھی لازم نہیں ہوتا ہے،مالک زندگی میں اپنےمال میں تمام جائز تصرفات کرسکتا ہے،  اور اپنی زندگی  میں جو چیزکسی کومالک بناکردے وہ  شرعاً ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے،البتہ زندگی میں اپنی اولاد  میں اگر  اپنی خوشی اور رضامندی سے جائیداد وغیرہ تقسیم کر رہا  ہو تو کرسکتا ہے، اور اس صورت میں اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  اپنی ساری اولاد (بیٹوں، بیٹیوں) کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کرے، اولاد میں سے کسی کو محروم کرنا، یا بلاوجہ کمی بیشی کرنا جائز نہیں ، ورنہ ایسی تقسیم شرعا غیر منصفانہ کہلائے گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر زندگی میں جائیداد  تقسیم کرنا شرعا  لازم نہیں ، البتہ اگر  سائل برضا و خوشی، اولاد کے مطالبہ کے بغیر اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہو   تو اس کا شرعی طریقہ  یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے جائیداد میں سے جتنا چاہیں حصہ مختص  کرلیں، تاکہ بوقت ضرورت کسی کی محتاجی نہ ہو، اور بوقت ضرورت کام آسکے، اور اگر بیوی زندہ ہو تو اسے کل مال کے آٹھویں حصے کے بقدر دیدے، اس کے بعد جو باقی بچے اسےاپنے تمام بیٹے اور بیٹیوں میں برابر تقسیم کردے، جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے، اور سب کو برابر سرابر دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلا وجہ کمی پیشی کرے، ورنہ گناہ گار ہو گا، البتہ اولاد میں سے اگر کوئی زیادہ خدمت گزار ہو، یا زیادہ  دیندار ہو، یا زیادہ ضرورت مند ہو، تو اسے بقیہ کے مقابلہ میں کچھ زیادہ بھی دینے کی اجازت ہوگی، نیز ہر ایک کا حصہ الگ کرکے اس کی ملکیت و قبضہ میں دینا ضروری  ہوگا، مشترکہ  طور پر اولاد کے نام کرنا، یا گھر میں رہتے ہوئے گھر اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کافی نہ ہوگا۔شادیوں کا خرچہ الگ سے ہر ایک لڑکی  کو بھی دینا ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے :

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: "أكل ولدك نحلت مثله؟" قال: لا قال: "فأرجعه" . وفي رواية: أنه قال: "أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟" قال: بلى قال: "فلا إذن" . وفي رواية: أنه قال: أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: "أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟" قال: لا قال: "فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم". قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: "لا أشهد على جور."

(کتاب البیوع، باب العطایا، ج : 3، ص : 158، رقم الحدیث : 3019، ط : بشری)

مظاہر ِحق جدید میں ہے :

ترجمہ:"حضرت نعمان ابن بشیرؓ کے بارے منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ؓ) انہیں رسولِ کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(کتاب البیوع، باب العطایا، ج : 3، ص : 193، ط : دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے :

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلا تنصرف الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لا يعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة."

(کتاب الوقف، فصل یراعی شرط الواقف فی اجارته، مطلب مھم فی قول الواقف علی الفریضة الشرعیة، ج : 4، ص : 444، ط : سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں